پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

چوہدری نثار کااستعفیٰ ،ن لیگ نے اعلان کردیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور (این این آئی )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار سے استعفیٰ مانگنے کی بجائے ان کی قیادت میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کامیابیوں کو سراہا جانا چاہیے ، آج تک جتنے بھی کمیشن بنے اور ان کی رپورٹیں آئیں کیا کسی وزیر نے اس پر استعفیٰ دیا ؟،

پانامہ لیکس میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کا نہیں بلکہ بلاول کی والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کا نام ہے، خورشید شاہ نے انتہائی گھٹیا بات کی ہے کہ اب تو چیف جسٹس بھی اپنا آ رہا ہے ،ان کا یہ بیان اپنے اداروں کی توہین اور ان کوکمزور کرنے کے مترادف ہے ،عمرا ن خان نے تو خود انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے عدالتی کمیشن کی رپو رٹ کو تسلیم نہیں کیا اب وہ کیوں اچھل کو د کر رہے ہیں اور چھلانگیں لگا رہے ہیں ؟

۔پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے بیانات پر رد عمل دیتے ہوئے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ سانحہ کوئٹہ کی ذمہ دار (ن) لیگ کی وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے تو پھر پشاور میں آرمی پبلک سکول سمیت جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے اس کے ذمہ دار عمران خان اور وہاں کی صوبائی حکومت ہے ۔ درحقیقت عمران خان خیبر پختونخواہ میں مکمل طورپر ناکام ہو چکے ہیں ان کووہاں 2018میں اپنی شکست صاف نظر آرہی ہے اس ناکامی سے بچنے کیلئے وہ روزانہ (ن) لیگ کی حکومت پر طرح طرح کے الزامات لگا تے رہتے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ خورشید شاہ نے انتہائی گھٹیا بات کی ہے کہ اب تو چیف جسٹس بھی اپنا آ رہا ہے۔نئے چیف جسٹس کا انتخاب پا کستان مسلم لیگ ( ن) نے ہرگز نہیں کیا ، سپریم کو رٹ کا نئے چیف جسٹس کو عہدے کی منتقلی کا ایک باقاعدہ نظام ہے اور سپریم کو رٹ اسی پر عمل پیرا ہے جو سنیارٹی لسٹ میں سب سے اوپر ہو اسی کو چیف جسٹس بنا یا جا تا ہے ۔

مجھے افسوس ہے کہ خورشید شاہ قائد حزب اختلاف ہونے کے باوجود اتنی سی بات سے بھی واقف نہیں ، ان کا یہ بیان اپنے اداروں کی توہین اور ان کوکمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ جب عمران خان نے خود ہی کسی کمیشن کی رپو رٹ کو تسلیم نہیں کیا تو اب انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کمیشن کی رپورٹ کے معاملے پر حکومت کو موردالزام ٹھہرائیں ،اب وہ کیوں اچھل کو د کر رہے ہیں اور چھلانگیں لگا رہے ہیں ؟۔ عمران خان کی انہی الٹی سیدھی باتوں کی وجہ سے انہیں سنجیدہ نہیں لیتا ، ان کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔

سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ یہ ایک بالکل لغو بات ہے کہ چوہدری نثار نے کسی دہشتگرد سے ملاقات کی ہے ،چوہدری نثار سے استعفیٰ مانگنے کی بجائے ان کی کارکردگی کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ انہو ں نے دہشتگردی کے واقعات پر بہت حد تک قابو پایا ہے جس سے گزشتہ تین سالوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے ،موجودہ حکومت نے ہر شعبہ زندگی میں زبردست کا رکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ،کسی ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے ، آج تک جتنے بھی کمیشن بنے اور ان کی رپورٹیں آئیں ، کیا کسی وزیر نے استعفیٰ دیا ؟ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…