ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے طیارہ حادثے کی تمام میتوں کی شناخت ہوچکی ،وزیرمملکت کیڈ

datetime 16  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی)وزیرمملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پی آئی اے حادثے کی تمام میتوں کی شناخت ہوچکی ہے ، میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں، طیارہ حادثے کے ورثا ء کوبشمول انشورنس کی رقم فی کس 55لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے جس کیلئے قانونی کارروائی جاری ہے، سانحے کی تحقیقات جاری ہیں جس میں عالمی ماہرین کی خدمات بھی لی گئی ہیں، حادثے میں غفلت کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سز ا دی جائے گی۔وہ جمعہ کو پمز اسپتال اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ سے قبل 30میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کی گئیں تھیں جبکہ آج مزید 14 میتوں کی شناخت ہوئی جنھیں لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ، تین غیر ملکی مسافروں جن میں سے ایک کا تعلق چین جبکہ دو کا تعلق آسٹریا سے تھا کی میتیں ان کے ورثاکے حوالے کرنے کیلئے سفارتخانے سے رابطے میں ہیں۔غیر ملکی مسافروں کی میتوں کی شناخت بھی ہو چکی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ میتیں وعدے کے مطابق 17دسمبر سے قبل ہی ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں ،جمعے کے روز شناخت ہونے والی چودہ میتوں میں سی12کا تعلق چترال ، ایک کا تعلق پشاور اور ایک کا راولپنڈی سے تھا۔ پشاورکے مسافر عابد قیصر، راولپنڈی کے مسافر عاصم وقاص اور چترال کی مسافر شمشاد بیگم کی میتیں ان کے ورثا اپنے آبائی علاقوں کو لے کر روانہ ہو گئے جبکہ چترال کی بقیہ گیارہ میتیں ان کے ورثا کے ہمراہ ہفتے کے روز C-130کے ذریعے چترال روانہ کی جائیں گی، ابتداًچترال کی میتیں C-130کے ذریعے جمعہ کے روز ہی چترال روانہ ہونا تھیں لیکن چترال میں موسم ناسازگار ہونے کے باعث اب یہ میتیں ہفتے کی صبح روانہ ہوں گی۔چترال کی رہائشی شمشاد بیگم کے ورثا نے ان کی میت بذریعہ سڑک لے جانے کا فیصلہ کیا جس پر ان کی میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

وزیر مملکت نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طیارہ حادثے کے ورثا ء کوبشمول انشورنس کی رقم 55لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے جس کیلئے قانونی کارروائی جاری ہے ۔انھوں نے کہا کہ سانحے کی تحقیقات جاری ہیں جس میں عالمی ماہرین کی خدمات بھی لی گئی ہیں، حادثے میں غفلت کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سز ا دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ حادثے کے ورثا کو ہر ممکن سہولت پہنچانے کی کو شش کی ،اس سلسلے میں پمز کی انتظامیہ اور فورنزک ماہرین نے انتہائی جان فشانی سے کام کیا اور لواحقین کو ہر طرح کا تعاون اور مدد فراہم کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…