ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

سی پیک اور گوادر پورٹ سے بلوچستان میں ترقی کا دروازہ کھلے گا، سرتاج عزیز

datetime 13  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امورسرتاج عزیز نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ سے بلوچستان میں ترقی کا دروازہ کھلے گا،سی پیک سے بلوچستان کی ترقی اور وہاں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا،سی پیک سے بلوچستان کی ترقی اور وہاں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، پاکستان کا سی پیک میں کردار اپنی ترجیحات کے مطابق ہے، سی پیک کے راستہ خودکفالت سے ہمیں سستی توانائی میسر ہوگی، انفراسٹرکچر سمیت کے کے ایچ کی بحالی میں بھی مدد ملے گی، ہر صوبے کو سی پیک سے متعلق تجارتی زون قائم کرنے کا کہا گیا، منصوبے سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہوگا ، ہر سال 5 سے 6 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی توقع ہے، سی پیک میں 36 ارب ڈالرز کے منصوبے سافٹ قرضے ہیں، کچھ چینی کمپنیاں بجلی و توانائی کے پلانٹ بھی لگائیں گی ، سی پیک سے فائدہ اٹھانے کے لیے چند اصلاحات کرنا ہوں گی۔
اسلام آباد میں سی پیک کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کا سی پیک میں کردار اپنی ترجیحات کے مطابق ہے، سی پیک کے راستہ خودکفالت سے ہمیں سستی توانائی میسر ہوگی اور انفراسٹرکچر سمیت کے کے ایچ کی بحالی میں بھی مدد ملے گی، گوادر پورٹ سے بلوچستان میں ترقی کا دروازہ کھلے گا اور سی پیک سے بلوچستان کی ترقی اور وہاں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کو سی پیک سے متعلق تجارتی زون قائم کرنے کا کہا گیا، اس منصوبے سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہوگا اور ہر سال 5 سے 6 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ سی پیک صرف چین نہیں دیگر کئی ممالک کو منسلک کریگی، سی پیک تزویراتی اعتبار سے چین اور یورپ کے فاصلے کو کم کرے گا جب کہ چین اور روس یورو ایشیا کے قدیم روڈ کی بحالی کے بھی خواہشمند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک میں 36 ارب ڈالرز کے منصوبے سافٹ قرضے ہیں، کچھ چینی کمپنیاں بجلی و توانائی کے پلانٹ بھی لگائیں گی جب کہ ٹیکسٹائل کے علاوہ ہماری برآمدی صنعت زیادہ فعال نہیں لہذا سی پیک سے ہماری برآمدی صنعت پر مثبت اثر مرتب ہو گا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ سی پیک سے فائدہ اٹھانے کے لیے چند اصلاحات کرنا ہوں گی، ہمیں انڈسٹریل پارک بنا کر بھی فائدہ اٹھانا ہے، ہمیں اس بات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کہ چینی یہاں آ کر کام کریں لہذا اداروں کو متحرک کرنا ہے تاکہ وہ ماہرافرادی قوت تیار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…