ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدہ ۔۔ ورلڈ بینک نے خبردار کر دیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی ) ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو آبی تنازع جنوری تک حل کرنے کی مہلت دی دی۔ ورلڈ بینک کے مطابق اگر پاکستان اور بھارت نے آبی تنازع سندھ طاس معاہدے سے ہٹ کر حل کیا تو یہ معاہدہ غیر فعال ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ ہندوستان کی جانب سے غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے کی درخواست کی گئی تھی جبکہ پاکستان نے بھی چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کے تقرر کی درخواست کی تھی۔ واضح رہے کہ ہندوستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستان نے رواں برس جولائی میں عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پانی و بجلی کے سیکریٹری محمد یونس ڈھاگا کی سربراہی میں 8 رکنی وفد پانی کے تنازع پر مذاکرات کے لیے ہندوستان گیا تھا تاہم کوئی پیش رفت نہ ہوسکی تھی،
پاکستان نے اسلام آباد سے ملحقہ علاقوں میں ہندوستان کے اہم ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اب ورلڈ بینک نے ہندوستان کی درخواست پر سندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدار ماہر اور پاکستان کی درخواست پر چیئرمین ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو جنوری تک معاملات باہمی طور پر حل کرنے کی مہلت دی ہے۔ ورلڈ بینک گروپ کے صدر جم یانگ کنگ کے مطابق پاکستان اور بھارت آبی تنازع کو سندھ طاس معاہدے کے مطابق حل کریں، دونوں ملکوں کی معاہدے سے ہٹ کر متبادل حل کی کوشش کے نتیجے میں سندھ طاس معاہدہ غیر فعال ہوسکتا ہے۔
اس حوالے سے ورلڈ بینک نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خزانہ کو خطوط کے ذریعے آگاہ کردیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق ورلڈ بینک کا خط پاکستان کو موصول ہوگیا جس کے بعد وزارت پانی و بجلی کو معاملے کا جائزہ لینے کا کہا گیا اور وزارت پانی و بجلی نے انڈس واٹر کمشنر کو متنازع ڈیمز کا معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کردی۔ واضح رہے کہ ہندوستان دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں ستمبر 1960 میں ہوا تھا جس پر پاکستان کی جانب سے اس وقت کے صدر ایوب خان جبکہ ہندوستان کی جانب سے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے باہمی اصول طے کیے گئے اور یہ معاہدہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1965 اور 1971 میں ہونے والی جنگوں کے باوجود بھی برقرار رہا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی ہندوستان جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم رواں برس ستمبر میں ہونے والے اڑی حملے کے بعد سے ہندوستان وقتاً فوقتاً سندھ طاس معاہدے کی منسوخی اور پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا آیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…