پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

اذان پر پابندی کے باوجود اسرائیل کی مسجد میں اذان گونج اٹھی۔۔۔پھر کیا ہوا ؟

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی) اسرائیلی کابینہ کی جانب سے حال ہی میں منظور کئے گئے لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے پر پابندی کے متنازع قانون پر صہیونی انتظامیہ نے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ صہیونی ریاست کے نسل پرستانہ اور اسلام دشمن قانون کا پہلا شکار 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہر اللد کی مسجد کے موذن بنے ہیں جنہیں گزشتہ روز نماز فجر کی اذان لاؤڈ سپیکر پر دینے کے جرم میں 750 شیکل جرمانہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے اللد شہر میں قائم ایک مسجد کے موذن کو کیے گئے جرمانہ کے واقعے کو غیرمعمولی کوریج دی گئی ہے۔اگرچہ مذکورہ متنازع قانون ابھی تک پارلیمنٹ میں زیربحث ہے اور اسے منظور نہیں کیا گیا مگر اس کی منظوری سے قبل ہی اس پرعملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ اسرائیل کے عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اللد شہر کی اسرائیلی بلدیہ نے شنیر کالونی کی جامع مسجد کے موذن الشیخ محمود الفار کو جرمانہ گذشتہ روز نہیں بلکہ گذشتہ جمعرات کی اذان فجر کے موقع پر کیا تھا۔
انہوں نے فجر کی اذان لاؤڈ اسپیکر پر دی تھی جس کے بعد انہیں بلدیہ کے دفتر میں طلب کرکے جرمانہ ادا کرنے کا نوٹس دیا گیاتھا۔عبرانی اخبار کی ویب سائٹ پر پوسٹ خبر میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مسجد کے موذن الشیخ محمود الفار کو دیئے گئے جرمانے کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اذان سے یہودی آباد کاروں کے آرام وسکون میں خلل پیدا ہوتا ہے،آ رام و سکون میں خلل کے انسداد کیلئے پارلیمنٹ نے کئی سال قبل بھی ایک قانون منظور کر رکھا ہے۔ اس لئے اس قانون کے تحت مسجد میں بلند آہنگ اذان دینے پر پابندی عاید کی جاتی ہے۔ادھر اسرائیلی ریڈیو نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس اذان پر پابندی سے متعلق متنازع قانون میں ترمیم پر غور کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک تجویز یہ بھی دی گئی ہے کہ لاؤڈ سپیکر پر اذان رات 23 بجے سے صبح 7 بجے تک دی جاسکتی ہے۔دن کے بقیہ اوقات میں لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کی جائیگی۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت اذان پر پابندی سے متعلق قانون میں زیادہ سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے تاکہ اعلیٰ عدالت سے اس قانون کومسترد نہ کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…