پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری منصوبہ ،چین نے پاکستانیوں کواہم پیشکش کردی

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)چائینز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے منیجر وکٹر جیا نے پاکستانی تاجروں کو چین پاکستان اقتصادی راہدری( سی پیک) میں سرمایہ کاری اور مشترکہ شراکت داری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان سمیت خطے میں ترقی و خوشحالی کا باعث ہو گا جس کی تکمیل سے نہ صرف روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صنعتی وتجارتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔یہ بات انہوں نے انڈینٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان( آئی اے او پی) کے چیئرمین ثاقب فیاض مگوں کی سربراہی میں ممتاز تاجروصنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر کہی۔ وفد نے چائینز پورٹ ہولڈنگ کمپنی( سی او پی ایچ سی) کی دعوت پر گوادر بندرگاہ کا دورہ کیا اور دیگر کمپنی حکام مس وینڈی وانگ، گوادر فری زون کے داداللہ سے ملاقات کی ۔ وفد نے گوادر بندرگاہ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرزاق درانی سے بھی ملاقات کی اور گوادر بندرگاہ پر دستیاب تجارتی سہولتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر ثاقب فیاض مگوں نے پاکستانی تاجربرادری کے لیے سرمایہ کاری اور مشترکہ شراکت داری کے لحاظ سے سی پیک منصوبہ انتہائی پرکشش ثابت ہو گا۔ پاکستانی تاجروں کو سی پیک کے اس بڑے منصوبے کا ضرور حصہ بننا چاہیے تاکہ ملکی اقتصادی ترقی میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ سی پیک میں کئی ممالک کی بطور اسٹیک ہولڈر شرکت سے منصوبے کی کامیابی میں کوئی شک باقی نہیں رہا یہ منصوبہ علاقائی بلاک میں’’ گیم چینجر‘‘ کی حیثیت اختیار کرگیاہے۔گوادر دنیا بھرکے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ہر روز گوادر کا دورہ کررہے ہیں جس سے ریئل اسٹیٹ کا روبار بھی عروج پر پہنچ گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ سی او پی ایچ سی 22ہزار600ایکٹر پر مشتمل فری زون قائم کررہی ہے

جہاں تمام شعبوں کی برآمدی صنعتوں کو تمام ضروری انفرااسٹرکچر کی فراہمی کے ساتھ23 سال کے عرصے کے لیے ٹیکس فری سہولت دی جائے گی۔چین کی بے شمار کمپنیوں نے فری زون میں پہلے ہی رجسٹریشن حاصل کرلی ہے۔ابتدائی مرحلے میں 80ایکڑ پر مشتمل گوادر ماڈل زون2018 میں مکمل ہو گا جہاں عالمی معیار کا نمائش سینٹر،فائیو اسٹارز ہوٹل، کارپوریٹ آفسز اور رہائشی اپارٹمنٹس بھی تعمیر کیے جارہے ہیں۔گوادر میں 300میگا واٹ کا بجلی کی پیداوار کا پلانٹ قائم کیا جائے گا ۔پہلے فیز میں 100میگا واٹ کا منصوبہ شروع کیاجائے گا اور یہ خودمختار پاور پلانٹ وزارت پانی وبجلی کی منظوری کے بعد برق رفتاری سے 2سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہو گا ۔گوادر بندرگاہ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرزاق درانی نے وفد سے ملاقات میں بتایا کہ گودار بندرگاہ سے جہازوں کو تیل کی سپلائی پر کوئی اضافی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی کوئی ٹیکس عائد کیاجائے گا لہٰذا شپنگ کمپنیاں اپنے جہازوں کو فیول کی فراہمی کے لیے گوادر کا رُخ کریں گی۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…