اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’یہ کام کیا تو اینٹ سے اینٹ بجا دینگے‘‘ بھارتی شہریوں نے ہی مودی کو بڑی دھمکی دے ڈالی‘

datetime 6  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت کو اپنے ہی شہریوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملک کو درپیش مسائل کو حل نہ کیا گیا تو اس سے بڑے پیمانے پر سماجی بے چینی پھیلے گی اگرمطالبات پورے نہ ہوئے تواکتوبر کے آخر میں ممبئی کا رخ کریں گے جس میں ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد کی شرکت متوقع ہے اور اس طرح یہ بھارت کی تاریخ کا بڑا احتجاجی مظاہرہ بن جائے گااور ہم حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،دوسری جانب گزشتہ چارماہ سے بھارت میں اورنچی ذات کے لاکھوں لوگ دلتوں کے خلاف مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں اورمطالبہ کررہے ہیں کہ دلتوں اور قبائلیوں کوحاصل نسلی تحفظ کا وفاقی قانون فوری منسوخ کیاجائے،ان خاموش جلوسوں کا سلسلہ جولائی میں اس وقت شروع ہوا جب نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے تین دلت مردوں نے مبینہ طور پر ایک مرہٹہ لڑکی کو ریپ کیا تھا،بھارتی میڈیا کے مطابق گذشتہ چھ ہفتوں میں دسیوں لاکھ لوگ بڑی خاموشی سے بھارتی ریاست مہاراشٹر کے طول و عرض میں جلوس نکال رہے ہیں،یہ ایک انوکھا احتجاج ہے، ان خاموش مظاہرین کا کوئی رہنما نہیں ہے، اور ان میں کسانوں سے لے کر پروفیشنل تک شامل ہیں۔

کئی جلوسوں کی قیادت عورتیں کر رہی ہیں۔ سیاست دانوں کو ان پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہے،یہ مظاہرین مرہٹہ ذات سے تعلق رکھتے ہیں، جسے بھارت کی سب سے پرفخر اور خودپسند ذات سمجھا جاتا ہے۔ ان کی اکثریت کھیتی باڑی کرتی ہے اور یہ مہاراشٹر کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔مہاراشٹر کا شماربھارت کی نسبتاً مالدار ریاستوں میں ہوتا ہے، جہاں ایک طرف تو بالی وڈ ہے، تو دوسری طرف یہ ریاست کارخانوں اور فارموں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ تاہم اسی ریاست کے بعض حصوں میں سخت غربت بھی پائی جاتی ہے۔ان خاموش جلوسوں کا سلسلہ جولائی میں اس وقت شروع ہوا جب نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے تین دلت مردوں نے مبینہ طور پر ایک مرہٹہ لڑکی کو ریپ کیا تھا اس کے بعد مطالبات کی فہرست میں کالجوں اور سرکاری نوکریوں میں کوٹا اور 27 سال پرانے ایک وفاقی قانون کی منسوخی بھی شامل ہو گئے جس کے تحت دلتوں اور قبائلیوں کو نسلی تحفظ حاصل ہے۔ایسے 20 سے زائد جلوسوں کے بعد خاموش مظاہرین اکتوبر کے آخر میں ریاست کے دارالحکومت ممبئی کا رخ کریں گے۔ توقع ہے کہ اس موقعے پر ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد جمع ہوں گے اور اس طرح یہ انڈیا کی تاریخ کا بڑا احتجاجی مظاہرہ بن جائے گا۔مہاراشٹر کے خاموش مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک کو کئی مسائل کا سامنا ہے جنھیں حل نہ کیا گیا تو اس سے بڑے پیمانے پر سماجی بے چینی پھیلے گی۔عدم مساوات اور برسوں کی اقرباپروری کی وجہ سے وہاں طاقت اور دولت صرف چند گنے چنے افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…