پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

مصر میں صوبائی گورنر کی شکی اہلیہ نے انتہا ہی کر دی

datetime 28  فروری‬‮  2015 |

اسکندریہ: عام طور پر بیویاں کم ہی اپنے شوہروں پر اعتبار کرتی ہیں اور کسی نہ کسی بہانے سے ان کی کھوج میں لگی رہتی ہیں اور اب تو موبائل فون آجانے کے بعد ان کے پیغامات کا دوربین کی نگاہوں سےجائزہ لیتی ہیں جب کہ اگر کوئی شوہر سرکاری عہدے پر ہوتو بیگمات ہر تقریب پر نظر رکھتی ہیں لیکن مصر میں تو ایک گورنر کی اہلیہ نے جاسوسی اور حسد کی حد ہی کردی جو اپنے شوہر کو نہ صرف کسی تقریب میں اکیلے چھوڑتی ہے بلکہ ہر جگہ ساتھ رہتی ہے۔

لاما نے پولیس اور شہریوں کی دوڑیں لگوا دیں

اسے خاتون کی بے پناہ محبت کا نام دیں یا پھر شک بہرحال وہ اپنے شوہر اسکندریہ کے گورنر ڈاکٹر ہانی المسیری کے ہمراہ ہر سرکاری اجلاس میں وزرا اور دیگر سرکاری افسران کے ساتھ شریک ہوتی ہیں یہ اگرچہ ان کی شرکت نہ صرف گورنر کو بلکہ اجلاسوں میں شریک دیگر سرکاری افسران کو بہت کھلتی ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ بے چارے خون کے آنسو پی کر رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ کوئی عام خاتون نہیں گورنر کی اہلیہ ہیں۔

اس سے بھی  دلچسپ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب گورنر المسیری کو خاتون وزیر ڈاکٹر لیلیٰ زبیری سے ملاقات کرنا تھی وہ ان سے اکیلے میں ملنا چاہتے تھے لیکن بیوی کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور وہ بھی اس میٹنگ میں نہ صرف شریک ہوئیں بلکہ اس دوران اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ان سے گفتگو بھی کی۔

گورنر المسیری کی بیوی کا یوں ہر اجلاس میں آدھمکنا سرکاری اہلکاروں کو سخت پریشان کرتا ہے اور نائب گورنر سعاد الخولی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کا یوں اجلاسوں میں آنا سرکاری امور کو متاثر کر رہا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بھی گورنر کی اہلیہ کی اس حرکت پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن گورنر کی اہلیہ کے سامنے بولے کون یعنی بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…