بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

راستے کا انعام

datetime 4  جنوری‬‮  2019 |

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور اِس کے افتتاح کے لئے ایک ریس کا اعلان کیا اور کہا کہ” اس ریس میں تمام شہری حصہ لیں اور اِسکے اختتام پر شاہراہ کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار بھی کریں، اور جس کا نقطۂ نظر بادشاہ کو پسند آئے گا اُسے انعام سے نوازا جائے گا۔۔۔سب نے بڑے جوش و خروش سے ریس میں حصہ لیا۔۔۔شاہراہ کے دوسرے سِرے پر بادشاہ ریس کے شرکاء کے تاثرات پُوچھتا رہا۔

۔۔کسی نے شاہراہ کی تھوڑی، کسی نے زیادہ تعریف کی، مگر سب نے بتایا کہ ” شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے۔۔۔ اگر اُسے اُٹھوا دیا جائے تو راہ چلنے اور دوڑنے والوں کے لیے بہت اچھا ہوگا۔۔۔ شام تک سب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اُٹھ کر جانے لگا۔۔۔ایک سپاہی نے خبر دی کہ” ریس میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو شاہراہ میں صبح سویرے داخل ہوا تھا ابھی آنا باقی ہے۔”کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھُول میں لت پت تھکا ہارا ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور ہانپتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوا۔۔:جناب عالی !میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا۔۔۔ دراصل راستے میں کچھ بجری پڑی تھی،میں نے سوچا اِس کی وجہ سے گزرنے والے لوگوں کو تکلیف ہوگی،لہٰذا اُسے ہٹانے میں کافی وقت لگ گیا۔۔۔ لیکن حضور !۔۔۔بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ہے، اس میں شاید کچھ سکے ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے سڑک بنانے والے مزدوروں میں سے کسی کے ہوں گے۔ اُسے دے دیجئے گا۔۔۔ وہ شخص اپنی بات ختم کر کے چلنے لگا تو بادشاہ نے کہا۔۔۔” بوڑھے میاں !یہ تھیلی اب آپکی ہے۔کیونکہ یہ میں نے ہی وہاں رکھوائی تھی، اور یہ تمہارا انعام ہے۔۔۔ پھر بادشاہ دوسرے حاضرین کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے بولا، بہترین شخص وہ ہوتا ہے،

جو گلے شکوئے کرنے کی بجائے اپنے عمل سے کچھ کر کے دیکھائے۔عزیز دوستو !۔۔۔اگر دیکھا جائے تو ہم سب بھی مجموعی طور پر راستے کی اِس “بجری” پر تو نالاں رہتے ہیں جو ہمارے راستے میں حائل ہے مگر اسکو ہٹانے کی کوشش نہیں کرتے۔۔۔جس کا ذمہ دار کوئی حکمران یا ادارہ نہیں، خود ہم عام عوام ہیں۔ہم میں سے ہر کوئی گفتار کا غازی تو بن جاتا ہے،مگر کوئی بھی کردار کا غازی بننے کو تیار نہیں ہے۔۔۔ الله کرے اب ہم لوگ بھی صرف باتیں بنانے کے بجائے اردگرد موجود چھوٹی موٹی “بجریاں” بھی ہٹانا شروع کر دیں۔۔۔ ایسا کرنے پر مجھے یقین ہے کہ ایک دِن ہم اُس حقیقی بادشاہ کی بارگاہ سے دنیا و آخرت میں انعام ضرور پائیں گے۔۔۔ان شاء اللہ۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…