اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

کون سی جمہوریت اور کون سا آئین, ملک میں کیا چل رہا ہے ؟ سینئر سیاستدان نے بڑا دعوی کر دیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کون سی جمہوریت اور کون سا آئین، ملک میں بادشاہت ہے جہاں غریب کی کہانی کوئی نہیں سنتا، پاکستان کی تاریخ میں کبھی پیٹرولیم مصنوعات پر اتنا سیلز ٹیکس نہیں لگا جتنا موجودہ حکومت نے عائد کر رکھا ہے،ڈیزل کی اصل قیمت 36 روپے ہے لیکن اسے 74 روپے میں بیچا جا رہا ہے،جس ملک کی آبادی میں 80فیصد لوگ سفید پوش ہوں،وہاں ایسے اقدامات عوام پر ظلم و جبر سے کم نہیں،حکومت عوام کی بے بسی پر اورنج ٹرین چلارہی ہے،ملک ترقی کرے مگر لوگوں کو زبح کرکے ترقی نہ کی جائے،لاہور میں جیل روڈ تو خوبصورت بنائی لیکن اسی روڑ پر واقع جناح اسپتال میں ضروری آلات تک نہیں، اسپتال کے باہر لوگ زمین پر سو تے ہیں، حکومت غریب کا پیٹ کاٹ کر اپنا ریونیو پورا نہ کرے،6ستمبر کو ہم بھارت کو شکست دینے کا دن منا تے ہیں ہمیں سوچنا ہوگا کہ6برس بعد ہمارے ساتھ کیا ہوا تھا،ملک تاریخ سے سبق سیکھتے ہیں مگر ہم تاریخ سے کیوں سبق نہیں سیکھتے۔وہ منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کر رہے تھے۔
اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومتیں عوام کی بھلائی کیلئے ہوتی ہیں،تمام سیاسی جماعتیں الیکشن سے قبل اپنا منشور دیتی ہیں،مگر ہماری سوچ ووٹ لیکر عوام کی فلاح کی جگہ کمرشل ہوجاتی ہے،ہم اپنے خزانہ بھرنے کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں،ملک میں تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سال میں 2100ارب قرضہ لیا ۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات دنیا بھر میں کم ہورہی ہیں،ملک میں یہ بات چلتی رہی کہ ستمبر میں پٹرولیم مصنوعات پر 4سے5روپے کم کی جارہی ہے مگر حکومت نے عوام تک یہ ریلیف نہیں دیا،حکومت نے عوام کی فلاح کی بجائے کمرشلائزڈ راستہ اختیار کیا ہو ہے،پاکستان کی تاریخ میں سیلزٹیکس اتنا کبھی نہیں لگا،پی پی دور میں حکومت سیلز ٹیکس16 فیصد لگا۔انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب عوام کی بات ہوتی ہے تو حکومتی اور اپوزیشن بینچ اہمیت نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول پر سیلز ٹیکس 3فیصد بڑھا دیا،ڈیزل پر حکومت نے 25سے بڑھا کر35فیصد سیلز ٹیکس لگادیا،عوامی اور جمہوری حکومت کو یہ کام زیب نہیں دیتی،جس ملک کی آبادی میں 80فیصد لوگ سفید پوش ہوں،وہاں ایسے اقدامات عوام پر ظلم و جبر سے کم نہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی کے دور حکومت میں ریونیوکولیکٹو432ارب تھی سیلز ٹیکس پر مگر 2015-16میں حکومت نے 526ارب سیلز ٹیکس سے ریونیو حاصل کیا،غریب ملک کے غریب عوام کی پیسوں سے اپنا خزانہ بھرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس وقت ڈیزل کی قیمت 74روپے ہے جس میں سے 35روپے سیلز ٹیکس شامل ہے،پیپلزپارٹی میں فیول ٹیکس کو اسی ایوان میں جگاٹیکس کہا جاتا تھا،ہم نیلیوی ٹیکس 10سے کم کرکے 8فیصد کر دیا اسے کہتے ہیں عوامی حکومت،حکومت عوام کی بے بسی پر اورنج ٹرین چلارہی ہے،ملک ترقی کرے مگر لوگوں کو زبح کرکے ترقی نہ کی جائے،لاہور پاکستان کا دل ہے، لاہور میں جیل روڈ تو خوبصورت بنائی گئی لیکن اسی روڑ پر واقع جناح اسپتال میں ضروری آلات تک نہیں، جناح اسپتال کے باہر لوگ زمین پر سو رہے ہیں، حکومت غریبوں کی بے بسی پر اورنج ٹرین چلا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت غریب کا پیٹ کاٹ کر اپنا ریونیو پورا نہ کرے،وزیراعظم شائد عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہوں مگر ان کو کوئی بتانے والا نہیں،انہیں سب اچھے کی رپورٹ دی جاتی ہے،بادشاہت میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ملک میں بے بسی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی جی ہائی وے پولیس کی سنگدلی کی وجہ سے نوجوان نے خودکشی کرلی،کوئی پوچھنے والا نہیں اس آئی جی کو،ابھی تک اس کیس کی انکوائری تک نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ پر انگلیاں اٹھانے کا خود موقع دیتی ہے،بڑی قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا اور ہمارے بڑوں نے ہمیں تحفہ دیا مگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا تحفہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج 6ستمبر سے ہمارے شاہینوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا تو ہم آج6 ستمبر منارہے ہیں،ملک تاریخ سے سبق سیکھتے ہیں مگر ہم تاریخ سے کیوں سبق نہیں سیکھتے، آج ہم بھارت کی شکست کا دن منارہے ہیں ہمیں سوچنا ہوگا کہ 6 برس بعد ہمارے ساتھ کیا ہوا تھا، ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے، ہمیں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔فیڈریشن میں تمام اکائیوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں،آج ملک کے دفاع کی ذمہ داری ہم سویلین پر بھی ہے،ہمیں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی،ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے ملک کو کمرشل ی ریاست بنانا ہے یافلاحی ۔ ملک میں بادشاہت ہے،غریب کی کہانی کوئی نہیں بتاتا، ہم کس پارلیمنٹ، کون سی جمہوریت اور کس آئین کی بات کر رہے ہیں ، حکومت کوصرف ووٹ لیتے ہوئے عوامی ایشو یاد ہوتے ہیں، ووٹ لینے کے لیے تو پاں پر بھی ہاتھ رکھتے ہیں لیکن ایوان میں آکر عوام کے مسائل بھول جاتے ہیں۔(خ م+رڈ)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…