پشاور(این این آئی)خیبرپختونخواحکومت نے صوبے میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن کافیصلہ موخر کردیا،پندرہ نومبر تک غیررجسٹرڈافغان مہاجرین کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی اوراس حوالے سے پولیس کوبھی ہدایت جاری کردی ہے خیبرپختونخوا اسمبلی میں افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے حوالے سے سپیکر اسدقیصر کی زیرصدارت اہم اجلاس منعقدہوا۔اجلاس میں وزیراعلی پرویزخٹک ،آئی جی ناصر خان دورانی،صوبائی حکومت کی جانب سے مہاجرین کے فوکل پرسن رستم شاہ مہمند سمیت پارلیمانی پارٹیوں کے ارکین نے شرکت کی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک کا کہناتھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کبھی افغان مہاجرین کو پاکستان چھوڑنے کا پریشر نہیں ڈالاگیا، وفاقی حکومت کی جانب سے مہاجرین کو دسمبرتک جبکہ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن پندرہ نومبر تک کرانے کی ڈیڈلائن دی گئی ہیں صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے اس فیصلہ کے پابند ہے اور اب پندرہ نومبر تک کسی بھی غیر رجسٹرڈ افغان مہاجر کے خلاف ایف آئی ار کا اندراج نہیں کیا جائیگا،وزیراعلی کا کہناتھا کہ وفاقی حکومت افغانستان سے آنے والے افغانیوں کے صحت اور تعلیم کیلئے پالیسی واضع کرے وفاقی حکومت افغان مہاجرین کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گئی صوبے کو قبول ہوگا ۔
افغان مہاجرین،خیبرپختونخواحکومت نے اپنا فیصلہ بدل دیا،نیا اعلان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سکولوں کے اوقات میں 1 گھنٹے کی کمی کا اعلان
-
وہ اینڈرائیڈ فونز جن میں 9 ستمبر سے واٹس ایپ کو استعمال نہیں کیا جاسکے گا
-
ایزی پیسہ صارفین کیلئے خوشخبری زبردست سہولت متعارف کرا دی گئی
-
نئی آٹو پالیسی ! گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے اہم خبر
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلیے نئی سہولت متعارف
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
-
آئی فون 18 کی لانچنگ سے قبل آئی فون 17 کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
لاہور،نجی ہوسٹل پر چھاپے میں 7مرد و زن گرفتار
-
مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تاریخ سامنے آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)
-
کرکٹر حسن علی کی اہلیہ نے علیحدگی کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی
-
پہلی ہی فلم سے ہٹ ہونے والے رومانوی ہیرو اب شادیوں میں رقص کرکے گزر بسر کرنے پر مجبور
-
محلے کی ’آنٹی‘ نے چغلیوں کو کاروبار بنا لیا، کمائی سے 2 گھر بھی خرید لیے
-
پنشنرز اور قومی بچت اسکیموں کے سرمایہ کاروں کے لیے اہم خبر



















































