بدھ‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2025 

اسلام آباد ائیرپورٹ ،36ارب کے منصوبے نے بلندیوں کوچھولیا،وہ کام ہوگئے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا

datetime 16  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ نئے اسلام آباد ائیرپورٹ کا 36ارب روپے لاگت کا منصوبہ 120ارب تک پہنچ جائے گا ، ایوی ایشن ڈویژن کے سیکرٹری عرفان الٰہی نے بتایا کہ نئے اسلام آباد ایئر پورٹ ‘ منصوبہ 36 ارب کی لاگت سے بڑھ کر 87 ارب ر وپے تک پہنچ چکا ہے اور تاحال منصوبہ بھی مکمل نہیں ہوا، منصوبہ بندی ہی غلط کی جاتی ہے ، 4 کروڑ میں جب ٹرمینل نہیں بن سکتا تھا تو کیوں اسے رکھا گیا ہے،کمیٹی رکن جنید انوار چوہدری نے کہا کہ نئے اسلام آباد ائیرپورٹ کے لیے بننے والے ڈیم سے اردگرد رہنے والوں کو ایک بوند پانی بھی نہ دیا جائے ،سیاسی بنیادوں پر وہاں اپنے لوگوں کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میں سید ہوں اور کسی کا پانی بند نہیں کرواسکتا ،آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ زیادہ بولی والے کے مقابلے میں کم بولی دہندہ کو زمین لیز پر دی گئی جس سے قومی خزانے کو 12 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس زمین پر پٹرول پمپ بنایا گیا ہے اور پمپ مالک نے 600 گز اس سے آگے زمین پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ اس کا شجرہ نسب سول ایوی ایشن سے تو نہیں ملتا ہے۔ اس کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں ،پی اے سی نے ثالثی کی عدالتوں اور نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کی تعمیر میں ہونیوالی بے ضابطگیوں پر ذیلی کمیٹی قائم کر دی اور کمیٹی کو ایک ماہ میں ان 5 آڈٹ اعتراضات پر رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے کنونیئر سردار عاشق گوپانگ اور شاہدہ اختر علی اور جنید انوار چوہدری ممبر ہوں گے،قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں اپوزیشن ڈویژن کے مالی سال 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اور 2 ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں کامسیٹس کی دوہری ڈگری سمیت این ایچ اے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی ۔ذیلی کمیٹی کے کنوینر نوید قمر نے کہا کہ کامسیٹس کی دوہری ڈگری معاملہ مختلف فومز پر گفتگو ہوئی اور کچھ معاملات عدالت میں بھی ہیں، اور این ایچ اے سے متعلق آڈٹ اعتراض کو ذیلی کمیٹی نے نمٹانے کی ہدایت کی ہے۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 5 آڈٹ اعتراض ثالثی کیلئے دیے گئے ہیں ، وزارت حکام نے بتایا کہ 13 آڈٹ اعتراض ثالثی کی عدالتوں میں موجود ہیں، کمیٹی رکن جنید انور چوہدری نے کہا کہ اس معاملہ پر وزارت اپنے دستاویزات کی جانچ پڑتال کرکے آگاہ کرے۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا سول ایوی ایشن کے42 ارب روپے کے بقایا جات ہیں جوکہ وصول ہونے ہیں اور پی آئی اے سے ہی وصول کرتے ہیں۔ وزارت نے بتایا 7 ارب سے زائدپی آئی اے کا اور 81 کروڑ سے زائد حکومتی اداروں کے ساتھ ہیں۔ جون 2015 آخری تاریخ دی گئی ہے 27 ارب اسوقت ساکت ہیں اور اسے فنکشنل کرنے کیلئے بات جاری ہے۔ حکومتی اداروں کے ذمہ 81 کروڑ سے 60 کروڑ ایم او یو پر دستخط کے بعد ریگولرائز ہو جائیگی کچھ اپنے ادارے ہیں، جن سے ریکوری نہیں بنتی، آپریشنل ایریا پہلے ہی طے پا گیا ہے۔ ڈی مارکیشن کیلئے یہ ضروری ہے۔ کمپنی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ جو رقم واجب الوصول ہے، وہ تو وصول کرنی ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ وزارت کبھی کہتی ہے کہ ہم نے بقایاجات وصول کرنے ہیں اور کبھی نہیں کرنے اگر وزارت اے ایس ایف کو زمین دیتی ہے تو اس پر معاہدہ کرنا چاہیے۔ ہم نے یہ تمام ریکارڈ وزارت کی دستاویزات سے حاصل کیا ہے وزارت نے کہا کہ 1986 کا صدارتی آرڈر ہے اور اس پر ایم او یو کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ واجبات کی وصولی کو معاف کیا جاسکتا ہے اور بورڈ میں لے جایا جائے ۔ وزارت نے بتایا کہ ثالثی کے کیسز کے اجلاس تعطل سے ہورہے ہیں۔کمپنی رکن سردار عاشق گوپانگ نے کہا کہ ساری ادائیگیاں غیرقانونی ہیں اور اس پر ذمہ ادروں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی جس پر وزارت نے بتایا کہ ابھی تک ان ادائیگیوں کے غیر قانونی ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔5 آڈٹ اعتراض کے 13 کیسز چل رہے ہیں اور ریٹائرڈ ججز ہیں جو ثالثی کے کیسز چلا رہے ہیں اور یہ متنازع رقم ہے اسی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ ایف آئی اے نے تحقیقات کی ہیں 45 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ذمہ داروں کا یقین بھی کیا ہے مگر ایف آئی اے اور سول اپوزیشن دونوں اس پر خاموش ہیں۔پی اے سی نے اور ثالثی کی عدالتوں اور نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کی تعمیر میں ہونیوالی بے ضابطگیوں پر ذیلی کمیٹی قائم کر دی اور کمیٹی کو ایک ماہ میں ان 5 آڈٹ اعتراضات پر رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے کنونیئر سردار عاشق گوپانگ اور شاہدہ اختر علی اور جنید انوار چوہدری ممبر ہوں گے۔ آڈٹ اعترا ض کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ غیر قانونی طورکام کیا گیا جس کی وجہ سے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے اضافی اخراجات ہوئے جس پر وزارت نے بتایا کہ 2012ء میں وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اور 20 فروری 2013ء کو صدر پاکستان نے افتتاح کرنا تھا۔ اس میں ٹھیکیداروں کو 10 احکامات دئیے گئے تھے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کہا کہ یہ انکوائری کیس اس کو نہ نمٹایا جائے۔ آڈٹ حکام نے کہاکہ و زیر اعظم نے کارگو ٹرمینل بنانے کی ہنگامی بنیادوں پر ہدایت کی تھی۔ وزارت حکام نے بتایا کہ نئے اسلام آباد ایئر پورٹ ‘ منصوبہ 36 ارب کی لاگت سے بڑھ کر 87 ارب ر وپے تک پہنچ چکا ہے اور تاحال منصوبہ بھی مکمل نہیں ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ منصوبہ بندی ہی غلط کی جاتی ہے ۔ 4 کروڑ میں جب ٹرمینل نہیں بن سکتا تھا تو کیوں اسے رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ 120 ارب سے بھی تجاوز کرے گا اگر ذمہ داروں کے خلاف کرروائی کی جاتی تو ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ آ جائے گا کیونکہ یہاں یہی ہوتا ہے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان رانا اسد امین نے کہا کہ اس معاملے پر سخت فیصلے کی ضرورت ہے اور جو لوگ ذمہ دار تھے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جن لوگوں کو کنسلٹنٹ رکھا گیا تھا وہ بیرون ممالک سے ہی کنسلٹنسی کرتے تھے۔ وہ پاکستان آئے ہی نہیں ۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ یہ وزارت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ شمس الملک کی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہاکہ سول ایوی ایشن کے پی آئی اے پاس 42 ارب روپے پڑے ہیں اور اب 4 کروڑ روپے پر وزارت کو تکلیف ہو رہی ہے ۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ زیادہ بولی والے کے مقابلے میں کم بولی دہندہ کو زمین لیز پر دی گئی جس سے قومی خزانے کو 12 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس زمین پر پٹرول پمپ بنایا گیا ہے اور پمپ مالک نے 600 گز اس سے آگے زمین پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ اس کا شجرہ نسب سول ایوی ایشن سے تو نہیں ملتا ہے۔ اس کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں ۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ خلاف ضابطہ کنسلٹنسی ٹھیکہ دیا گیا بغیر کسی قانونی عمل کے جس سے 4 کروڑ سے زائد اضافی لاگت آئی ۔ کمیٹی نے سیکرٹری کو تحقیقات کی ہدایت کر دی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ سول ایوی ایشن نے ہوٹل لیز پر دیا اور پی آئی اے کو دیا اور پی آئی اے کے ذمہ 4 کروڑ سے زائدپراپرٹی ٹیکس جو ادا نہیں کیا گیا۔ اب تو کسی دوسری کمپنی یونائیٹڈ انٹرنیشنل گروپ کو دیدیا گیا ہے۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ پرئمیئر فلائٹس کے ٹکٹ کے چارجز بڑھائے جائیں گے۔ ابھی تک پرانے ریٹس ہی ہیں کمیٹی نے آڈٹ اعتراض نمٹ ا دیا۔ کمیٹی نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے آڈٹ اعتراض کے حوالے سے کہا کہ ا بھی سے ہی کریکس آ رہے ہیں جبکہ اس پر ٹریفک ہی نہیں ہے۔ بعد میں تو اس کا حال مزید برا ہو گا۔ رن وے پر جہاز کا پریشر اور پھر ہوا کا بھی پریشر ہوتا ہے۔ اور اگر کریکس آتے ہیں اس کا مطلب ہے نیچے میٹریل غیر معیاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ بے چاری بھوک سے مر گئی


آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…

بخارا کا آدھا چاند

رات بارہ بجے بخارا کے آسمان پر آدھا چاند ٹنکا…

سمرقند

ازبکستان کے پاس اگر کچھ نہ ہوتا تو بھی اس کی شہرت‘…

ایک بار پھر ازبکستان میں

تاشقند سے میرا پہلا تعارف پاکستانی تاریخ کی کتابوں…

بے ایمان لوگ

جورا (Jura) سوئٹزر لینڈ کے 26 کینٹن میں چھوٹا سا کینٹن…

صرف 12 لوگ

عمران خان کے زمانے میں جنرل باجوہ اور وزیراعظم…

ابو پچاس روپے ہیں

’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ…

ہم انسان ہی نہیں ہیں

یہ ایک حیران کن کہانی ہے‘ فرحانہ اکرم اور ہارون…

رانگ ٹرن

رانگ ٹرن کی پہلی فلم 2003ء میں آئی اور اس نے پوری…

تیسرے درویش کا قصہ

تیسرا درویش سیدھا ہوا‘ کھنگار کر گلا صاف کیا…