اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

آصف زرداری نے میرا خط کیوں سنبھال کررکھا ہوا ہے؟وزیرداخلہ بہت کچھ سامنے لے آئے

datetime 12  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کی طرف سے پیغام آیا کہ پہلے انہیں تقریر کرنے دیں ٗوزیراعظم کی تقریر پہلے ہوگئی ان کا ایک اسٹیٹمنٹ تھا ٗ میں نے تو ہر چیز میں تعریف سب کی کی ہے ٗیہ بھی کہاکہ پہلی بار زرداری صاحب کی تعریف کی ہے ٗان کے ڈھنڈورچی کھڑے ہوگئے اور کہاکہ آصف زرداری کو کوئی ضرورت نہیں ہے ٗ اگر آصف زرداری کو ضرورت نہیں ہے تو انہوں نے میرا تعریفی خط کیوں سنبھال کر رکھا ہے؟ آصف زرداری کو میری تعریف کی ضرورت ہے لیکن ان ڈھنڈورچیوں کو کیا پتہ۔انہوں نے کہا کہ کیا یہ میرا قصور ہے کہ 2009ء اور 2010ء میں 2ہزار واقعات ہوئے، مگر کیوں کہ ایک ڈرامہ وزیراعظم کے سامنے رچانا تھا؟ پوائنٹ اسکورنگ ہونی تھی اور ایک تماشا لگانا تھا سو وہ تماشالگایا گیا ٗانہی دو اشخاص نے دھرنے کے دوران بد ترین بدتمیزی کی، میں نے پریس کانفرنس کرنی چاہی لیکن وزیراعظم آڑے آگئے۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کے چار نقاط پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہوا، دس نکات صوبوں کے بارے میں اور باقی دیگر وزارتوں کے بارے میں ہیں ٗیہ سب میل جول کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی ایک چوتھائی سے بھی نیچے آگئی ہے ٗدہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ ایک ماڈل کے طورپر تصور ہوتی ہے، بارڈر کے باہر دشمنوں کی ایک لائن لگی ہے جو وہاں سے پلان کرتے ہیں ٗکبھی غیر ملکی گٹھ جوڑ کی بات کریں تو ہمارے اپنوں کو آگ لگ جاتی ہے ٗجب سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں دے رہے ہوں تو آپ کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ٗمیرا کام ہے انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا، دو سال میں 20ہزار انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹولہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ٗ سول آرمڈ فورسز جو ہم دیتے ہیں اس پر بھی کہتے ہیں کہ آپ یہ بھی نہیں کرسکتے، آپ بلاشرکت غیرے اقتدار کے مالک ہیں، یہ لڑائی جھگڑا ختم ہونا چاہیے، لیکن ایک پارٹی نے تہیہ کرلیا ہے کہ اس نے مجھے ٹارگٹ کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں لیکن وہ میرے خلاف ہیں، میری ذمہ داری ہے کہ میں سیکیورٹی فورسز کو بلاجواز تنقید سے بچاؤں، کچھ ایسے لوگ چھپے ہوئے ہیں جنہیں بھارت کے مفادات سے زیادہ ہمدردی ہے ٗمیری ذمہ داری ہے کہ جہاں جہاں کرپشن ہوئی ہے میں ان کا آلہ کار نہ بنوں، سو ان کو یہ تکلیف ہے، ہر روز بیان میرے خلاف آتاہے، میں نہیں چاہتا کہ جواب دوں اور ان کے لیول پر جاؤں ٗوہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں، میں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ میٹر ریڈر تھا اس مقام تک کیسے پہنچ گیا؟ جو بہت بڑے بنتے ہیں ٗمجھے پتہ ہے کہ ایل پی جی کا ٹھیکہ کس طرح ریگولرائز کیا گیا ہے، میں نے تو کبھی نام نہیں لیا، ٹینڈر کسی اور کمپنی کے نام نکلا اور جس نے اپلائی ہی نہیں کیا اسے ٹھیکا دے دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…