اسلام آباد (نیو ز ڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کی طرف سے پیغام آیا کہ پہلے انہیں تقریر کرنے دیں ٗوزیراعظم کی تقریر پہلے ہوگئی ان کا ایک اسٹیٹمنٹ تھا ٗ میں نے تو ہر چیز میں تعریف سب کی کی ہے ٗیہ بھی کہاکہ پہلی بار زرداری صاحب کی تعریف کی ہے ٗان کے ڈھنڈورچی کھڑے ہوگئے اور کہاکہ آصف زرداری کو کوئی ضرورت نہیں ہے ٗ اگر آصف زرداری کو ضرورت نہیں ہے تو انہوں نے میرا تعریفی خط کیوں سنبھال کر رکھا ہے؟ آصف زرداری کو میری تعریف کی ضرورت ہے لیکن ان ڈھنڈورچیوں کو کیا پتہ۔انہوں نے کہا کہ کیا یہ میرا قصور ہے کہ 2009ء اور 2010ء میں 2ہزار واقعات ہوئے، مگر کیوں کہ ایک ڈرامہ وزیراعظم کے سامنے رچانا تھا؟ پوائنٹ اسکورنگ ہونی تھی اور ایک تماشا لگانا تھا سو وہ تماشالگایا گیا ٗانہی دو اشخاص نے دھرنے کے دوران بد ترین بدتمیزی کی، میں نے پریس کانفرنس کرنی چاہی لیکن وزیراعظم آڑے آگئے۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کے چار نقاط پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہوا، دس نکات صوبوں کے بارے میں اور باقی دیگر وزارتوں کے بارے میں ہیں ٗیہ سب میل جول کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی ایک چوتھائی سے بھی نیچے آگئی ہے ٗدہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ ایک ماڈل کے طورپر تصور ہوتی ہے، بارڈر کے باہر دشمنوں کی ایک لائن لگی ہے جو وہاں سے پلان کرتے ہیں ٗکبھی غیر ملکی گٹھ جوڑ کی بات کریں تو ہمارے اپنوں کو آگ لگ جاتی ہے ٗجب سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں دے رہے ہوں تو آپ کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ٗمیرا کام ہے انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا، دو سال میں 20ہزار انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹولہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ٗ سول آرمڈ فورسز جو ہم دیتے ہیں اس پر بھی کہتے ہیں کہ آپ یہ بھی نہیں کرسکتے، آپ بلاشرکت غیرے اقتدار کے مالک ہیں، یہ لڑائی جھگڑا ختم ہونا چاہیے، لیکن ایک پارٹی نے تہیہ کرلیا ہے کہ اس نے مجھے ٹارگٹ کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں لیکن وہ میرے خلاف ہیں، میری ذمہ داری ہے کہ میں سیکیورٹی فورسز کو بلاجواز تنقید سے بچاؤں، کچھ ایسے لوگ چھپے ہوئے ہیں جنہیں بھارت کے مفادات سے زیادہ ہمدردی ہے ٗمیری ذمہ داری ہے کہ جہاں جہاں کرپشن ہوئی ہے میں ان کا آلہ کار نہ بنوں، سو ان کو یہ تکلیف ہے، ہر روز بیان میرے خلاف آتاہے، میں نہیں چاہتا کہ جواب دوں اور ان کے لیول پر جاؤں ٗوہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں، میں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ میٹر ریڈر تھا اس مقام تک کیسے پہنچ گیا؟ جو بہت بڑے بنتے ہیں ٗمجھے پتہ ہے کہ ایل پی جی کا ٹھیکہ کس طرح ریگولرائز کیا گیا ہے، میں نے تو کبھی نام نہیں لیا، ٹینڈر کسی اور کمپنی کے نام نکلا اور جس نے اپلائی ہی نہیں کیا اسے ٹھیکا دے دیا گیا۔
آصف زرداری نے میرا خط کیوں سنبھال کررکھا ہوا ہے؟وزیرداخلہ بہت کچھ سامنے لے آئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا



















































