ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بھارت کا سعودی شہریوں بارے نیا انکشاف، سعودی عرب کا موقف بھی سامنے آ گیا

datetime 31  جولائی  2016 |

امپھال/نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مشرقی ریاست منی پور کی جیل میں قیدیوں کی آپسی لڑائی کے نتیجے میں2سعودی شہریوں سمیت 3قیدی ہلاک ہوگئے تاہم سعودی سفارتخانے نے شہریوں کی ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی جیلوں میں کوئی سعودی قید نہیں ۔بھارتی میڈیا کے مطابق قیدیوں کی لڑائی کا واقعہ بھارت کی جنوبی مشرقی ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال کی سینٹرل جیل میں صبح سویرے پیش آیا۔منی پور پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی ڈونگل کا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دو سعودی قیدیوں نے ساتھی قیدی پر حملہ کرکے اسے ہلاک کیا، واقعے کا سن کر دیگر قیدیوں نے جوابی حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں سعودی قیدی ہلاک ہوگئے۔لڑائی جھگڑے کے دوران ہلاک ہونے والے دوقیدیوں کی شناخت سعودی شہری سشاک یوسف احمد اور عبد السلام جبکہ تیسرے قیدی کی شناخت تھانگ مِلن زو کے نام سے ہوئی، جو منی پور کے ضلع چھوراچندرپور کا قبائلی تھا۔پی ڈونگل نے کہا کہ فوری طور پر لڑائی کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے،تینوں قیدیوں کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا ہے،ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قیدیوں نے ایک دوسرے پر حملے کے دوران کہیں کوئی ہتھیار تو استعمال نہیں کیا۔یاد رہے کہ قیدیوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کی کوشش کے دوران جیل کے دو محافظ اور ایک آفیسر زخمی بھی ہوئے۔دوسری جانب نئی دہلی میں سعودی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کی ایک جیل میں پیش آ نے والے پرتشدد واقعات میں سعودی شہریوں کی ہلاکت کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ سفارت خانے نے باور کرایا کہ بھارتی جیلوں میں کوئی سعودی شہری موجود نہیں۔سفارت خانے نے ٹوئیٹر پر جاری کیے گئے ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ بعض بھارتی ذرائع ابلاغ نے یہ بات رپورٹ کی ہے کہ ہفتے کے روز ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال کی سجیوا سینٹرل جیل میں قیدیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مارے جانے والوں میں سعودی عرب کے دو شہری بھی شامل ہیں۔ لہذا سعودی سفارت خانہ یہ واضح کرتا ہے کہ متعلقہ بھارتی حکام سے استفسار کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ الحمد للہ بھاریتی جیلوں میں کوئی سعودی شہری موجود نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…