جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ اعزاز جو کسی اور کے پاس نہیں

datetime 31  جولائی  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کا سب سے بلند ترین پولو کا گراؤنڈ چترال میں واقع ہے جہاں سالانہ شندور پولو فیسٹیول منعقد کیا جاتا ہے ۔ چترال میں دنیا میں پولو کے بلند ترین میدان پر سالانہ شندور پولو فیسٹیول اتوار کو اختتام پذیر ہو گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت اور ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے عہدیداران نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پاکستان ٹورازم کارپوریشن کے ساتھ مل کر کھیلوں کے اس اہم ایونٹ کو کامیابی سے یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں سیاحت اور کھیلوں کے فروغ کیلئے اقدامات جاری ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولو کے کھیل کے فروغ کیلئے بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع چترال کے کئی علاقوں جن میں گرم چشمہ، بونی، شاہگرام اور ریشون شامل ہیں، میں پولو کے گراؤنڈز کی تعمیر نو کا کام جاری ہے، پولو کے کھلاڑیوں کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے خصوصی پیکج دیا جائے گا تاکہ ’’بادشاہوں کے کھیل‘‘ کا چترال میں احیاء ہو سکے اور علاقہ میں سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکے۔ شندور پولو فیسٹیول کا آغاز جمعہ کو ہوا تھا۔ ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے عہدیداروں نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ ہر سال یہ فیسٹیول 7 سے 9 جولائی تک منعقد ہوتا ہے لیکن رواں سال عیدالفطر اور بعد ازاں مون سون کی وجہ سے اسے جولائی کے آخر تک موخر کیا گیا۔ شندور پولو فیسٹیول پاکستان میں منعقدہ فیسٹیولز میں کلیدی مقام رکھتا ہے۔ اس فیسٹیول کے دوران گلگت بلتستان اور چترال کی پولو ٹیموں کے درمیان مقابلے ہوتے ہیں۔ فیسٹیول کے موقع پر فوک میوزک، علاقائی رقص اور روایتی کھیلیں بھی منعقد ہوتی ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں پولو کے مقابلوں کا آغاز 13ویں صدی میں مسلمان بادشاہوں نے کیا۔ پولو کا لفظ بلتی میں بال کے مترادف ہے۔ ماضی میں پولو کے کھیل کیلئے کھلاڑیوں کی تعداد مخصوص نہیں ہوتی تھی اور جو ٹیم پہلے 9 گول کرتی تھی وہ فاتح قرار پاتی تھی تاہم آج کل پولو کے کھیل میں ایک ٹیم میں 6 کھلاڑی ہوتے ہیں۔ کھیل کا دورانیہ ایک گھنٹہ کا ہوتا ہے اور درمیان میں دس منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…