پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

کشمیری عوام سے دشمنی میں فیس بک انڈیا سے آگے ،مقبوضہ کشمیر کی پوسٹس کے ساتھ کیا کررہا ہے، برطانوی میڈیا کا انکشاف

datetime 20  جولائی  2016 |

لندن(آئی این پی) برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت کے بعد سے فیس بک نے برہان وانی سے متعلق درجنوں پوسٹوں اور اکانٹس کو ڈیلیٹ کردیا ہے۔ برطانوی روزنامے گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صحافیوں، مقامی اخبارات کے پیجز اور دیگر افراد کی جانب سے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی سے متعلق نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز پوسٹس بلکہ اکانٹس تک کو فیس بک کی جانب سے ڈیلیٹ کیا گیا ہے۔برہانی وانی کوبھارتی فوج نے 8 جولائی کو شہیدکیا تھا جس کے بعد سے ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اب تک درجنوں کشمیری شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ وادی میں کرفیو نافذ ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے موبائل فون کوریج، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کردیا گیا تھا، جبکہ اخبارات کی اشاعت پر تین روز کے لیے پابندی عائد کی گئی جسے منگل کو اٹھا لیا گیا تاہم ایڈیٹرز نے حکومت کی جانب سے معذرت تک اخبارات کو شائع کرنے سے انکار کردیا ہے۔کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ فیس بک کی جانب سے اس حوالے سے سنسر شپ کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔گارڈین سے بات کرتے ہوئے کشمیری بلاگر زرگر یاسر نے کہا یہاں اب کوئی اخبار نہیں اور صرف 2 نیوز چینلز ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کا فیس بک اکانٹ ایک ہفتے سے بلاک ہے جبکہ کچھ پوسٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے اور یہ سب اس وقت ہوا جب انہوں نے برہانی وانی سے متعلق ایک بلاگ کا لنک پوسٹ کیا۔انہوں نے مزید بتایا جب کوئی خبر نہ ہو تو عام طور پر ہم اطلاعات کے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں، اس طرح ہم کم از کم ایک دوسرے سے بات تو کرپاتے ہیں، اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی خیریت معلوم ہوجاتی ہے، مگر فیس بک نے میرا اکانٹ بلاک کردیا ہے، اب میں کیا کروں؟ایک مقامی صحافی مبشر بخاری کے مطابق جب میں گزشتہ روز دفتر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ فیس بک نے ایک ویڈیو ہٹا دی ہے جو ہم نے پوسٹ کی تھی، اس ویڈیو میں حریت رہنماسید علی گیلانی کو برہانی وانی کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، اس سے قبل ہمارے فیس بک پیج پر کبھی کچھ ڈیلیٹ نہیں کیا گیا تھا۔سوشل میڈیا کمپنیاں جیسے فیس بک پر حکومتوں کی جانب سے مخالف رائے کو محدود کرنے کا دبا ہوتا ہے، تاہم جب وہ حد سے باہر نکل جاتی ہیں تو انہیں تنقید کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…