پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

ترکی کا امریکہ میںایسا اقدام کر نے کا اعلان کہ امریکی سر پکڑ کر بیٹھ گئے

datetime 19  جولائی  2016 |

انقرہ( آن لائن )ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد امریکہ پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اب ترک سکیورٹی فورسز نے امریکی فوج کے زیرانتظام فوجی اڈے سے ترک فوج کے اعلیٰ افسر جنرل بکیر ایرکان وان کو گرفتار کر لیا ہے جس سے امریکہ پر عائد کیے گئے ترکی کے الزام کو تقویت ملی ہے۔ اس کے علاوہ ترک صدر رجب طیب ایردوگان نے خودساختہ جلاوطنی پر امریکہ میں موجود فتح اللہ گولن کو گرفتار کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ ان دونوں واقعات سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جنرل بکیر ایرکان وان کے ساتھ 10دیگر فوجیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر باغیوں کے ایف 16طیاروں کو فضاء4 میں ایندھن فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوگان نے امریکہ سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے اور پارلیمنٹ کو بھی پھانسی کی سزا سے پابندی اٹھانے کی ہدایت کر دی ہے تاکہ بغاوت میں ملوث فتح اللہ گولن اور اس کے حامیوں سے نمٹا جا سکے۔ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب ایردوگان کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ کو چاہیے کہ ہر حال میں گولن کو ترکی کے حوالے کر دے۔‘‘دوسری طرف وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ ’’ناکام ہو جانے والی بغاوت جنگی جرم کے زمرے میں آتی ہے لہٰذا اس میں ملوث افراد سے بھی اسی طرح نمٹا جائے گا۔‘‘ترکی کے وزیر محنت سلیمان سوئیلو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ’’ میں پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ اس بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔‘‘ ان تمام بیانات کے باعث امریکی حکومت اپنے اس قریب ترین اتحادی کی طرف سے سختی پریشانی میں مبتلا ہو گئی ہے اور اس نے بھی فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کا بظاہر عندیہ دے دیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ جان ایف کیری کا کہنا ہے کہ ’’ترکی کی طرف سے بغاوت میں امریکہ کے ملوث ہونے کا الزام غیرذمہ دارانہ ہے۔ فتح اللہ گولن کی حوالگی کے لیے ہم صرف ترکی کی درخواست کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر وہ قانونی معیار پر پوری اتری تو ہم گولن کو ترکی کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…