جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

افغان مہاجرین ایشو !حکومت نے عالمی فورم پر لے جانے کا عندیہ دے دیا

datetime 1  جولائی  2016 |

اسلام آباد (این این آئی) حکومت نے پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی کو یقینی بنانے کیلئے فوری ٹھوس اقدامات کرنے کے سلسلہ میں افغان حکومت اور اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کیساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جمعرات کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ کی مشترکہ صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر مؤثر عملدرآمد کے طریقہ کار کی تشکیل اور ان کے انتظام اور اس سلسلہ میں پیشرفت کے حوالہ سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزارت خارجہ اس معاملہ پر افغانستان کی حکومت سے سیاسی اور سفارتی سطح پر بات چیت کرے گی جبکہ سیفران کی وزارت اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے اور افغانستان کی پناہ گزینوں سے متعلقہ وزارت کے ساتھ معاملات طے کرے گی تاکہ پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی محفوظ اور مرحلہ وار وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے اور انہیں جلد سے جلد اپنے افغانستان کے ان پرامن علاقوں میں بھجوایا جا سکے جہاں افغان حکومت ان کیلئے انتظامات کرے۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی، سماجی و اقتصادی اور سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں افغان پناہ گزینوں کی عزت و وقار کے ساتھ جلد وطن واپسی کی ضرورت پر زور دیا گیا تاہم اجلاس میں اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پائیدار بنیادوں پر ہونی چاہئے اور افغانستان میں ان کی وطن واپسی کے سلسلہ میں کوششیں کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اجلاس میں 19 جولائی کو پاکستان میں افغان پنان گزینوں کی وطن واپسی کے معاملہ پر آئندہ سہ فریقی کمیشن کے اجلاس کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا جس میں حکومت پاکستان افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین اور افغانستان کے متعلقہ وزیر کے ساتھ تفصیلی اور باقاعدہ طور پر یہ معاملہ اٹھائے گی۔ اجلاس میں پاکستان کے حالیہ دورہ کے دوران اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر کے اعلان کا بھی خیرمقدم کیا گیا جس میں انہوں نے وطن واپس جانے والوں کیلئے امداد کو 200 ڈالر سے بڑھا کر 400 ڈالر فی کس کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اس اعلان سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں مدد ملے گی تاہم اجلاس میں یہ کہا گیا کہ افغان پناہ گزینوں کیلئے یہ ترغیب تبھی کار آمد ہو سکتی ہے جب افغانستان میں افغان حکومت پناہ گزینوں کیلئے تعلیم، صحت، پانی سمیت بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے ساتھ انہیں اپنے علاقہ تک رسائی دے اور ان کیلئے انفراسٹرکچر کی ترقی پر بھی توجہ دی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایک مستحکم، خوشحال اور پرامن افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے اور پاکستان افغانستان میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان بحالی اور تعمیرنو کیلئے بھی تعاون کرے گا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی ہدایات پر خیرسگالی کے جذبہ کے طور پر پاکستانی حکومت افغانستان میں قائم کی جانے والی افغان بستیوں کیلئے تین سال کے عرصہ تک مفت گندم فراہم کرے گی۔ اجلاس میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ افغان حکومت کی اپنی نقل مکانی کرنے والی آبادی کیلئے افغان حکومت کی کوششوں کے ساتھ تعاون کرے۔ امداد دینے والوں کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ پناہ گزین اور نقل مکانی کرنے والے افراد افغانستان کی قومی ترقی، حکمت عملیوں اور منصوبوں کا لازمی جزو ہیں۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں سیاسی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے ان مقاصد کیلئے ڈونرز سے رجوع کریں۔ افغان پناہ گزینوں کے معاملہ کو نیویارک اور برسلز میں آئندہ ہونے والی کانفرنسوں میں اٹھانے کا بہترین موقع ہو گا۔ سیکرٹری سیفران کی زیر صدارت ایک بین الوزارتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ وزیراعظم کے 28 جون کے احکامات کی روشنی میں ایک حقیقی ایکشن پلان تشکیل دیا جائے اور اس سلسلہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور دیگر فریقین کے ساتھ مشاورت اور قریبی رابطہ استوار کیا جائے۔ یہ کمیٹی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالہ سے باقاعدگی سے نگرانی کرے گی اور ماہانہ بنیادوں پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…