کابل(آن لائن) افغانستان نے مشہور صوفی شاعر اور مفکر جلال الدین رومی کو قومی ورثہ قرار دینے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔ افغانستان نے ایران اور ترکی کی جانب سے رومی کو اپنانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تہران اور انقرہ رومی کی تخلیقات کو مربوط کر رہے ہیں جس کے بعد اسے اقوام متحدہ کے کتابچے ’دنیا کی یادیں‘ میں اپنے مشترکہ ثقافتی ورثے کی حیثیت سے جمع کروائیں گے۔اقوام متحدہ کے تعلیم، سائنس اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے 1997 میں اس کتابچے کی بنیاد ڈالی تھی۔ اس کتابچے کا مقصد خاص طور پر جنگ زدہ اور شورش زدہ ممالک کے ادبی ورثے کو جمع اور محفوظ کرنا ہے۔اس سلسلے میں رومی کو ’اپنا‘ شاعر قرار دینے کی ترک اور ایرانی کوششوں کو افغانستان نے مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔رومی بلخ میں پیدا ہوئے تھے جو اب افغانستان کا حصہ ہے۔ افغان ثقافت و نشریات کی وزارت کے مطابق رومی ان کا فخر ہے۔ترجمان وزارت ہارون حکلیمی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’یونیسکو نے کبھی بھی ہم سے اس بارے میں رائے نہیں مانگی۔ لیکن ہم پرامید ہیں کہ ہم اپنا دعویٰ ثابت کردیں گے‘۔رومی کی تصنیفات امریکا میں بیسٹ سیلر میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی تخلیقات کو 23 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔رومی کی زندگی پر ایک ہالی ووڈ فلم بھی بنائی جارہی ہے جس میں مرکزی کردار آسکر ایوارڈ یافتہ لیونارڈو ڈی کیپریو کر رہے ہیں۔بلخ کے گورنر جنرل عطا محمد نور نے اقوام متحدہ میں افغان نمائندے کو اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کے سامنے اٹھانے اور اس پر احتجاج کرنے کو کہا ہے۔ان کا کہنا ہے، ’رومی کو صرف 2 ممالک تک محدود کرنا ناانصافی ہے۔ رومی ایک عالمی مفکر ہے اور دنیا بھر میں اس کے چاہنے والے موجود ہیں‘۔مشہور صوفی شاعر اور مفکر جلال الدین رومی 1207 میں بلخ میں پیدا ہوئے تھے جو اس وقت افغانستان کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن رومی کے زمانے میں یہ ایک مذہبی دارالخلافہ تھا اور بدھوں اور فارسی ادب کا مرکز تھا۔بعض مؤرخین کے مطابق بلخ اس وقت موجودہ تاجکستان کا حصہ تھا۔ منگول جنگجو چنگیز خان نے بھی 1221 میں اس پر حملہ کیا تھا۔منگولوں کے حملے کے دوران رومی نے وہاں سے ہجرت کرلی اور بغداد، مکہ اور دمشق کا سفر کرتے ہوئے ترکی کے شہر قونیہ ا آگئے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے 50 سے زائد برس گزارے۔یہیں ان کی ملاقات شمس تبریزی سے ہوئی۔ شمس تبریزی نے رومی کے خیالات و افکار پر گہر اثر ڈالا۔
رومی کس کا ہے؟ افغانستان ،ا یران اور ترکی کے درمیان شدید کشمکش
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کے لیے واحد آپشن
-
وفاقی حکومت کا ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈائون کا فیصلہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کے بارےوزیراعظم کا اہم اعلان
-
پاکستان کرکٹ بورڈ نے نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
-
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
پاکستان میں سستی الیکٹرک گاڑیوں (EV) کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری، CSMنے JMEV EV3 کی قیمتوں کا اعلا...
-
ریشم نے بہت سے گھر اور زندگیاں تباہ کی ہیں’ دیدار کا الزام
-
صدر ٹرمپ کے سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا اور سخت ریمارکس،ویڈیو بھی سامنے آ گئی
-
روس کا یکم اپریل سے دنیا کو پیٹرول کی فراہمی بند کرنے کا اعلان
-
آئی پی ایل کو بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی کو بورڈ نے این او سی جاری نہیں کیا
-
فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے، اسرائیلی آرمی چیف کا چونکا دینے والا انکشاف
-
ایران کا سعودیہ میں قائم امریکی بیس پر حملہ، ایندھن فراہم کرنے والے بیڑے کو تباہ کرنے کا دعویٰ
-
سابق کپتان پر الزامات، احمد شہزاد مشکل میں پڑ گئے
-
ایران کے میزائل حملے، 500امریکی فوجی ہلاک ، ایک ایف- 16طیارہ تباہ ہوگیا،ایران کا دعوی



















































