جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن نے تعینات سابق ججز نے کتنے کروڑ اور کیسے کمائے؟ سینئر تجزیہ نگار کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے‘ سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم چار ممبر الیکشن کمیشن بنائیں گے اور بنا بھی دیئے ، جب الیکشن کمیشن کے ممبر بن گئے تو یہ بات طے ہونا تھی کہ ان کی تنخواہیں اور مراعات کیا ہوں گی۔ اس وقت الیکشن کمیشن کی طرف سے درجنوں خطوط وزیر اعظم ، وزارت قانون و وزارت خزانہ کولکھے گئے۔ 11 جون 2011 ء کو الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری ہوئی اور 2016 ء میں ان کے 5 سال پورے ہو گئے اور وہ گھر بھی چلے گئے لیکن ان 5 سالوں میں کوئی ایسا قانون نہیں بنا کہ ان کو کس قانون کے تحت تنخواہیں دینی ہیں۔
رؤف کلاسرا نے کہا الیکشن کمیشن کے ممبران ان سابق ججوں کی تنخواہوں کا معاملہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہونا تھا لیکن یہاں سے اصل ڈرامہ شروع ہوا جس میں الیکشن کمیشن نے خود AGPR کو خط لکھا کہ ہمیں تنخواہیں دی جائیں اور یہ بھی خود لکھ کر دے دیا کہ ہمیں کتنی تنخواہ چاہئے، کتنی مراعات اور کتنے الاؤنسز وغیرہ وغیرہ۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایک ایک سابق جج ممبر نے ساڑھے 8 لاکھ روپے ماہانہ کا اپنی تنخواہ کا پیکج بنایا اور لکھ کر AGPR کو بھیج دیا۔ AGPR نے معاملہ آگے وزارت قانون کو بھیج دیا ۔ وزارت قانون سے جواب آیا کہ ان ججوں کو تنخواہوں کا بل ابھی منظور نہیں کرنا ، ان پر تلوار لٹکائے رکھیں اور ان تمام ججوں سے لکھوا لیں کہ جب تک بل پاس نہیں ہوگا ہم آپ کو پرویژنل تنخواہ دیتے رہیں گے یعنی وہی ساڑھے 8 لاکھ روپے تنخواہ جو آپ چاہتے ہیں آپ کو ملتی رہے گی اور اگر بل پاس نہ ہوا تو آپ کو یہ تنخواہ واپس جمع کروانی ہوگی۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس سے قبل یہ ایک ایک جج اپنی 8 لاکھ روپے ماہانہ پنشن اور ساڑھے 8 لاکھ روپے یعنی تقریباََ 16 لاکھ سے زائد رقم ماہانہ وصول کرتے رہے ہیں۔ججوں نے حکومت کو لکھ کر دے دیا کہ اگر پارلیمنٹ نے بل منطور نہ کیا تو ہم 8 لاکھ روپے ماہانہ کے حساب سے تنخواہ واپس کر دیں گے اور اس طرح بغیر قانون کے یہ جج ممبران الیکشن کمیشن 5 سال تک تنخواہیں لیتے رہے ۔ ان تمام جج ممبران کو تنخواہیں پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی طور نہیں دی جا سکتی تھی۔ انہیں غیر قانونی تنخواہیں دی گئیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ان سب ججوں کو تنخواہوں کے واپس لئے جانے کا ڈراوا دے کر ان سے اپنے حق میں فیصلے کروائے جاتے رہے۔ عمران خان صحیح کہتے ہیں کہ میرا الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ اسمبلی میں نہیں جاتے، کمیٹیوں میں نہیں بیٹھتے ۔ عمران خان کو چاہئے کہ پارلیمنٹ جایا کریں اور کمیٹیوں میں بیٹھا کریں۔
رؤف کلاسرا نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اب جو نئے ممبران الیکشن کمیشن تعینات کئے جا رہے ہیں ان کا بھی کوئی بل پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا، اور ایک بار پھر وہی گیم کی جانے لگی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…