اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

’’افغا ن حکومت کی بدنیتی ‘‘گلبدین حکمت یار کھل کرسامنے آگئے،اہم انکشافات

datetime 29  جون‬‮  2016 |

کا بل(آئی این پی) سابق افغان جنگجو کمانڈر اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کابل انتظامیہ پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ افغا ن حکومت بد نیت ہے، اس پر کسی طر ح اعتما د نہیں کیا جا سکتا ،اشرف غنی امریکہ کے زیر تسلط ہیں۔افغا نی اخبا ر شہا دت میں اپنے ایک آرٹیکل میں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ان کی تنظیم اور کابل حکام کے مابین جس امن معاہدے کی کوششیں کی جا رہی تھیں اس کا امکان اب عملی طور پر ختم ہو گیا ہے۔ حکمت یار نے کہا کہ افغان حکومت غیر قانونی ہے اور وہ اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔گلبدین حکمت یار کا یہ طویل تنقیدی انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حزب اسلامی نے افغان حکومت کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کے مسودے میں تبدیلی کرتے ہوئے نئی شرائط متعارف کرائی ہیں۔ ان میں سے ایک امریکا کے ساتھ دفاع کے شعبے میں ہونے والے معاہدے کو ختم کرنا اور غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے حوالے سے حتمی تاریخ کا طے کیا جانا شامل ہے۔اس تناظر میں حکمت یار کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے ان کو مطلع کیا ہے کہ جہاں تک امریکا سے سکیورٹی معاہدے کا تعلق ہے وہ اسے ختم نہیں کرسکتے یعنی وہ یہ سرخ لکیر عبور کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ گلبدین حکمت یار کا کہنا تھاکہ ان کی بہت کم ہی شرائط افغان حکومت نے تسلیم کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…