برلن /راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پاکستان پر الزامات کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک کے پاکستان پر الزامات افسوناک ہیں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیوں کے باوجود ‘ڈومور’ کا مطالبہ کرنا امتیازی سلوک ہے، دہشت گردوں کے خلاف جتنا کام پاکستان نے کیا کسی اور ملک نے نہیں کیا،نئی دلی کیساتھ حالات ٹھیک نہ ہونے کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے،بھارت کو اگر این ایس جی کی رکنیت دی گئی تو یہ امتیاز ہوگا، شمالی وزیرستان میں بلا تفریق آپریشن کیا گیا، پاکستان بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 18 ہزار آپریشن کیے گئے اور 240 دہشت گرد مارے گئے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا، پاک افغان بارڈر میکنزم کے بغیر سرحد کے دونوں جانب قیام امن ممکن نہیں، ملا اختر منصور پر ڈرون حملے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی ۔ جرمنی کے شہر برلن میں جرمن کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیوں کے باوجود ‘ڈومور’ کا مطالبہ کرنا امتیازی سلوک ہے۔ یہ دنیا کی طرف سے پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے کہ پاکستان کو سپورٹ نہیں کیا گیا اوراس کے موقف کو سمجھا نہیں گیا۔ دہشت گردوں کے خلاف جتنا کام پاکستان نے کیا کسی اور ملک نے نہیں کیا لیکن اس جنگ میں پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ۔
عاصم باجوہ نے ہندوستان کے ساتھ حالات ٹھیک نہ ہونے کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کو قرار دیا۔ اْن کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی رکنیت دی گئی تو یہ امتیازی سلوک ہوگا۔ افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے آئی ایس پی آر ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے اور پاک افغان سرحد پرفائرنگ کا تبادلہ ہوا لیکن اس حوالے سے بات چیت ہورہی ہے اور ابھی بارڈر مینجمنٹ کا کام جاری ہے۔ بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کے حوالے سے جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔انٹرویو کے دوران آپریشن ضرب عضب سے متعلق بات کرتے ہوئے آئی ایس ہی آر ترجمان نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں بلاتفریق آپریشن کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے فوج نے شمالی وزیرستان اور پھر خیبر ایجنسی میں آپریشن کیا اور اس کے بعد پاکستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 18 ہزار آپریشن کیے گئے جن کے دوران 240 دہشت گرد مارے گئے۔ آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کے حوالے سے جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ 62 فیصد آئی ڈی پیز کی واپسی ہوچکی ہے اور اْن کی واپسی کاعمل رواں سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔
بھارت کو اگر رکنیت دی گئی تو۔۔۔! پاک فوج نے بھی بیان جاری کر دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
زلزلے کے جھٹکے
-
صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
-
کراچی : گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا اہم انکشاف
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، این سی سی آئی اے نے عدالت میں پیش کردیا
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
عمران خان بھٹو
-
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی



















































