جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کا’’دوسرے ملک‘‘ کی جنگ کاحصہ نہ بننے کا اعلان،افغانستان کو آخری انتباہ کردیاگیا

datetime 21  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی)مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر اور دہشتگردی کے معاملے سمیت ہمارے 8نکات کو مانے ورنہ مذاکرات نہیں ہوں گے،پٹھانکوٹ واقعے میں کسی کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو پاکستان خود کارروائی کرے گا،دہشتگردی کے خاتمے کے لئے بارڈر منیجمنٹ لازمی ہے ،طور خم کے علاوہ بھی بارڈر کو محفوظ بنائیں گے اور بارڈر پر باڑ لگانے کا کام جاری رکھیں گے کیونکہ افغان بارڈر کھلا رہا تو قبائلی علاقے محفوظ نہیں رہیں گے ، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے کی طرح اب کسی دوسرے ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ، افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہونی چاہیے،7جون کو جی ایچ کیو میں آرمی چیف اور وزرا ء کا سیاسی اجلاس میری تجویز پر ہوا، اجلاس کی سربراہی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نہیں کر رہے تھے ، ایف 16طیاروں کا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں ، امریکہ سے ایف 16طیارے خریدنے کا معاملہ ختم ہو چکا ہے ، ایران سے تلخی بڑھنے کا تاثر غلط ہے ،موجودہ حکومتی پالیسی کے نتائج دیرپا ہوں گے ۔ وہ پیر کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے اور بغیر دستاویز کے کسی کو ملک میں آنے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کسی نے پاکستان پر حملہ کیا تو بھر پور جوب دیا جائے ۔ افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہونی چاہیے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کے بعد طورخم سرحد کھول دی گئی ہے اور امید ہے اب دوبارہ حالات کشیدہ نہیں ہوں گے ۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے حالات اگر بہت اچھے نہیں ہیں تو بہت برے بھی نہیں ہیں ۔ آپریشن سے پہلے نریندر مودی نے وزیراعظم کی بیمار پرسی کی ۔ مذاکرات کے لئے بھارت ہمارے 8نکات کو مانے ورنہ مذاکرات نہیں ہوں گے ۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ دہشتگردی کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ بھی ہمارے 8نکات میں شامل ہے ۔ دنیا بھی جانتی ہے کہ پاکستان مذاکرات کرناچاہتا ہے ۔ پٹھانکوٹ واقعے میں کسی کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم غیر ملکی دورے کریں تو کہتے ہیں کہ کتنے ایکٹو ہیں اور اگر ہمارے وزیراعظم دورے کریں تو تنقید شروع کر دی جاتی ہے ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہماری موجودہ حکومتی پالیسی کے نتائج دیرپا ہوں گے ۔ جی ایچ کیو میں حکومتی وزراء کی میٹنگ سے متعلق سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ جی ایچ کیو کی میٹنگ میں نے کروائی تھی ۔ افواج پاکستان کو کچھ پریزنٹیشن دینی تھیں اس لئے وہاں گئے ۔ میٹنگ میں شریک باقی وزراء کو میں نے اطلاع دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کی صدارت آرمی چیف جنرل راحیل شریف یا کوئی اور نہیں کر رہا تھا بلکہ ہم سب آمنے سامنے بیٹھے تھے اور ضروری امور پر بات چیت کر رہے تھے ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ضرب عضب کے تحت ہم نے بلا تفریق آپریشن کیا اس لئے اب افغانستان ہم پر طالبان کی میزبانی کا الزام نہیں لگا سکتا۔مشیر خارجہ نے کہا کہ اب ہم ایف 16طیاروں کا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں اور امریکہ سے ایف 16طیارے خریدنے کا معاملہ ختم ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہونی چاہیے ۔ طور خم کے علاوہ بھی بارڈر کو محفوظ بنائیں گے اور بارڈر پر باڑ لگانے کا کام جاری رکھیں گے کیونکہ افغان بارڈر کھلا رہا تو قبائلی علاقے محفوظ نہیں رہیں گے ۔ ایران سے تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ایران سے تلخی بڑھنے کا تاثر غلط ہے ۔ پابندی کے باعث ایران و پاک تعلقات پر اثر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سے نوابشاہ تک ایل این جی لائن بنائی جا رہی ہے اگر پابندی ہٹ جائے گی تو یہی لائن بڑھا کر ایران سے ملا دی جائے گی ۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…