اسلام آباد(آئی این پی)مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر اور دہشتگردی کے معاملے سمیت ہمارے 8نکات کو مانے ورنہ مذاکرات نہیں ہوں گے،پٹھانکوٹ واقعے میں کسی کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو پاکستان خود کارروائی کرے گا،دہشتگردی کے خاتمے کے لئے بارڈر منیجمنٹ لازمی ہے ،طور خم کے علاوہ بھی بارڈر کو محفوظ بنائیں گے اور بارڈر پر باڑ لگانے کا کام جاری رکھیں گے کیونکہ افغان بارڈر کھلا رہا تو قبائلی علاقے محفوظ نہیں رہیں گے ، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے کی طرح اب کسی دوسرے ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ، افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہونی چاہیے،7جون کو جی ایچ کیو میں آرمی چیف اور وزرا ء کا سیاسی اجلاس میری تجویز پر ہوا، اجلاس کی سربراہی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نہیں کر رہے تھے ، ایف 16طیاروں کا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں ، امریکہ سے ایف 16طیارے خریدنے کا معاملہ ختم ہو چکا ہے ، ایران سے تلخی بڑھنے کا تاثر غلط ہے ،موجودہ حکومتی پالیسی کے نتائج دیرپا ہوں گے ۔ وہ پیر کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے اور بغیر دستاویز کے کسی کو ملک میں آنے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کسی نے پاکستان پر حملہ کیا تو بھر پور جوب دیا جائے ۔ افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہونی چاہیے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کے بعد طورخم سرحد کھول دی گئی ہے اور امید ہے اب دوبارہ حالات کشیدہ نہیں ہوں گے ۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے حالات اگر بہت اچھے نہیں ہیں تو بہت برے بھی نہیں ہیں ۔ آپریشن سے پہلے نریندر مودی نے وزیراعظم کی بیمار پرسی کی ۔ مذاکرات کے لئے بھارت ہمارے 8نکات کو مانے ورنہ مذاکرات نہیں ہوں گے ۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ دہشتگردی کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ بھی ہمارے 8نکات میں شامل ہے ۔ دنیا بھی جانتی ہے کہ پاکستان مذاکرات کرناچاہتا ہے ۔ پٹھانکوٹ واقعے میں کسی کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم غیر ملکی دورے کریں تو کہتے ہیں کہ کتنے ایکٹو ہیں اور اگر ہمارے وزیراعظم دورے کریں تو تنقید شروع کر دی جاتی ہے ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہماری موجودہ حکومتی پالیسی کے نتائج دیرپا ہوں گے ۔ جی ایچ کیو میں حکومتی وزراء کی میٹنگ سے متعلق سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ جی ایچ کیو کی میٹنگ میں نے کروائی تھی ۔ افواج پاکستان کو کچھ پریزنٹیشن دینی تھیں اس لئے وہاں گئے ۔ میٹنگ میں شریک باقی وزراء کو میں نے اطلاع دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کی صدارت آرمی چیف جنرل راحیل شریف یا کوئی اور نہیں کر رہا تھا بلکہ ہم سب آمنے سامنے بیٹھے تھے اور ضروری امور پر بات چیت کر رہے تھے ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ضرب عضب کے تحت ہم نے بلا تفریق آپریشن کیا اس لئے اب افغانستان ہم پر طالبان کی میزبانی کا الزام نہیں لگا سکتا۔مشیر خارجہ نے کہا کہ اب ہم ایف 16طیاروں کا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں اور امریکہ سے ایف 16طیارے خریدنے کا معاملہ ختم ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہونی چاہیے ۔ طور خم کے علاوہ بھی بارڈر کو محفوظ بنائیں گے اور بارڈر پر باڑ لگانے کا کام جاری رکھیں گے کیونکہ افغان بارڈر کھلا رہا تو قبائلی علاقے محفوظ نہیں رہیں گے ۔ ایران سے تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ایران سے تلخی بڑھنے کا تاثر غلط ہے ۔ پابندی کے باعث ایران و پاک تعلقات پر اثر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سے نوابشاہ تک ایل این جی لائن بنائی جا رہی ہے اگر پابندی ہٹ جائے گی تو یہی لائن بڑھا کر ایران سے ملا دی جائے گی ۔
پاکستان کا’’دوسرے ملک‘‘ کی جنگ کاحصہ نہ بننے کا اعلان،افغانستان کو آخری انتباہ کردیاگیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
زلزلے کے جھٹکے
-
صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
-
عمران خان بھٹو
-
کراچی : گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا اہم انکشاف
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، این سی سی آئی اے نے عدالت میں پیش کردیا
-
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی



















































