جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد، حیران کن تفصیلات جاری

datetime 20  جون‬‮  2016 |

نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک ) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ دنیا میں جنگوں اور تنازعات کے سبب بیگھر ہونے والے افراد کی تعداد اپنی ریکار ڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ادارے کے مطابق سنہ 2015 کے آخر تک دنیا بھر میں تارکین وطن، پناہ گزینوں اور اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چھ کروڑ 53 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ ایک سال میں 50 لاکھ کا اضافہ ہے۔ دریں اثنا پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران سے نبردآزما یورپ میں ’غیرملکیوں سے نفرت کا ماحول‘ پریشان کن ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد نقل مکانی کے سب سے بڑے سیلاب سے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اور متنازع امیگریشن مخالف پالیسیوں کو وسیع حمایت ملی ہے۔ عالمی یوم پناہ گزیناں کے موقع پر جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پناہ گزینوں کی تعدا چھ کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔ان چھ کروڑ 53 لاکھ افراد سے میں نصف تین جنگ زدہ ممالک شام، افغانستان اور صومالیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران پر زیادہ تر توجہ کے باوجود 86 فی صد پناہ گزین کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں مقیم ہیں۔اس میں کہا گیا ہے پناہ حاصل کرنے کے لیے جرمنی کو سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ملک پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے کتنا تیار ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن (آئی او ایم) کے مطابق سمندر کے راستے ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد پناہ گزین یورپ کے سواحل پر اترے جبکہ دوسرے ادارے اس تعداد کو زیادہ بتاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے ’غیر ملکیوں سے نفرت کے ماحول‘ کو پریشان کن قرار دیا ہے آئی او ایم کے مطابق زمینی راستے سے تقریبا 35 ہزار افراد یورپ پہنچے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی پسندیدہ منزل جرمنی اور سویڈن جیسے امیر ممالک ہیں۔اس بحران سے یورپی یونین کے ممالک میں سیاسی تضاد پیدا ہوئے ہیں اور بعض ممالک نے اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے یا پھر سے سرحدوں کے ضوابط عائد کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک علیحدہ بیان میں اقوا متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ یورپی رہنما تعاون کرنے کی پالیسیوں اور پناہ گزینوں کے بارے میں پھیلائے جانے والے منفی تاثرات سے لڑنے کے لیے زیادہ کوشش کریں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…