جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

پاکستانی شہریت کی تصدیق کے عوض بیرون ملک مقیم پاکستانیو ں سے بھاری رقوم کی وصولی کادھندہ،اہم گرفتاریاں

datetime 17  جون‬‮  2016 |
APP71-10 ISLAMABAD: September 10 - Federal Minister for Interior and Narcotics Control Chaudhry Nisar Ali Khan addressing a press conference at Punjab House. APP photo by Irfan Mahmood

اسلام آباد(این این آئی)وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر ایف آئی اے لاہور نے کارروائی کرتے ہوئے سپیشل برانچ اور پنجاب پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد پر مشتمل گینگ گرفتارکیا ہے جو کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے انکی پاکستانی شہریت کی تصدیق کے عوض بھاری رقوم بطور رشوت وصول کرنے میں ملوث تھا۔پاکستانی ہائی کمیشن لندن کے توسط سے وزیرِداخلہ کو تحریری طور پر یہ شکایت موصول ہوئی کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے ان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کے بدلے ٹیلیفون کے ذریعے پاکستان سے ان سے بھاری رقوم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق غیر ممالک خصوصاً برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو کہ ساٹھ اورستر کی دہائی میں بیرون ملک آ گئی تھی ان میں سے بعض افراد ایسے بھی ہیں جنکے پاس اس وقت پاکستانی شہریت ثابت کرنے کے لئے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے لہذاایسے لوگ جب پاکستان واپسی کے لئے پاکستانی پاسپورٹ یا دیگر کسی دستاویز کے حصول کے لئے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرتے ہیں تو انکی شہریت کی تصدیق کے لئے ان کے کوائف پاکستان بھیج دیے جاتے ہیں۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے طرف سے بھیجے گئے مراسلے میں آگاہ کیا گیا کہ پچھلے چند عرصے میں ایسی شکایات موصول ہوئیں ہیں جن میں درخواست گزاروں سے پاکستان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جاتا ہے اورانکی شہریت کی تصدیق کے عوض انہیں بلیک میل کرتے ہوئے ان سے بھاری رقوم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وزیرِداخلہ نے اس شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور انکی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کئے۔جس پر پچھلے بہتر (72)گھنٹے میں ایف آئی اے نے کاروائی کرتے ہوئے پانچ افراد پر مشتمل گروہ کو گرفتارکیا ہے۔ اس گروہ میں سپیشل برانچ لاہوراورپنجاب پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ مذکورہ گینگ صفدر علی ولد عاشق حسین، شمس پرویز ولد محمد اسلم، ذیشان خان ولد میاں خان ، یوسف ولد سردار علی اور خرم شہزاد پر مشتمل ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزم صفدر علی سپیشل برانچ پنجاب پولیس لاہور میں تعینات تھا اور شہریت کی تصدیق سے متعلقہ ریکارڈ اس کی تحویل میں ہوتا تھا۔ شہریت کی تصدیق کے سلسلے میں موصول ہونے والی درخواستوں پر یہ اہلکار اپنے گینگ کے باقی ارکان کو اس کی آگاہی اور تفصیلات فراہم کرتا تھا جو درخواست دہندہ سے رشوت طلب کرتے اور اس کے بعد شہریت کی تصدیق کا عمل آگے بڑھایا جاتا۔ ملزم شمس پرویز پولیس لائینز منڈی بہاؤالدین میں بطور کانسٹیبل تعینات تھا اور وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیو ں سے رابطے کے لئے موبائل فونز سمز کی فراہمی ، رشوت کی وصولی اور اسکی تقسیم میں ملوث تھا ۔ ملزم ذیشان ویسٹرن یونین اور دیگر ذرائع سے رقوم کی وصولی میں ملوث تھا اور اس کے قبضے سے برتھ سرٹیفیکیٹس، ایس ایس پی سیکیورٹی سپیشل برانچ لاہور اور ایس ایس پی سپیشل برانچ گوجرانوالاکے جعلی لیٹر ہیڈ برآمد ہوئے ہیں۔ ملزم یوسف منڈی بہاؤالدین پولیس کا اہلکار ہے اور وہ اپنے بھائی خرم شہزاد کی مدد سے اس گینگ کو معاونت فراہم کرتا تھا۔سپیشل برانچ سے شہریت کی تصدیق کے اس پورے عمل کے لئے پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصولی کی جاتی تھی رشوت کی وصولی تک یا تو تصدیق کے عمل کو التوا میں رکھا جاتا یا جعل سازی سے رپورٹ تیار کر لی جاتی۔ ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کے قبضے سے حاصل کیے گئے موبائل فونز اور کمپیوٹرز کی فارنزک جانچ پڑتال کا عمل بھی جاری ہے اور آئندہ چند روز میں مزید اہم انکشافات کا امکان ہے۔یاد رہے کہ مروجہ ضابطہ کار کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شہریت کی تصدیق کے لئے تمام صوبوں میں سپیشل برانچ کو کلیدی کردار حاصل ہے۔ وزیرِداخلہ نے ایف آئی اے کو ناجائز طریقے سے حاصل کی گئی رقم کی برآمدگی کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…