لاہور (نیوز ڈیسک)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس اعجاز الاحسن نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے خلاف مختلف درخواستوں کی سماعت کے لئے فل بینچ تشکیل دیدیا ، جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کل ( پیر ) سے سماعت شروع کرے گا ۔گزشتہ روز چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس اعجاز الاحسن نے جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے ، فل بینچ اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں پر سماعت 21مارچ ( پیر ) سے شروع کرے گا ۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس عابد عزیز شیخ ، جسٹس شاہد بلال حسن ، جسٹس شاہد کریم اور جسٹس علی اکبرقریشی شامل ہیں ۔ اس سے قبل منصوبے کے خلاف درخواستوں پر دو رکنی بنچ سماعت کر رہا تھا ۔لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے منصوبے کے راستے میں آنے والے تاریخی سمیت دیگر مقامات پر حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے جس کی وجہ سے منصوبے پر جزوی طور پر کام رکا ہوا ہے ۔ منصوبے کے خلاف اظہر صدیق ایڈووکیٹ، سول سوسائٹی اور شہریوں نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ۔ اٹارنی جنرل پاکستان پہلے ہی دو رکنی بینچ کے روبرو یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ منصوبے پر جاری کام کی وجہ سے کوئی تاریخی مقام متاثر نہیں ہو گا ۔ درخواستوں میں اورنج لائن ٹرین منصوبے کو چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔
ورنج ٹرین منصوبے کیخلاف درخواستوں کی سماعت کے لئے فل بینچ تشکیل
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ
-
خلیجی ممالک میں عید الفطر کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی
-
عید الفطر پر نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟ طریقہ کار سامنے آگیا
-
بارش کا الرٹ جاری
-
پاکستان کرکٹ بورڈ کا قذافی اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ
-
ایندھن کی قلت، سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ
-
یوٹیوبر رجب بٹ کی طلاق کی پیشگوئی کرنے والی آسٹرلوجسٹ لالہ رخ نے ایک اور خطرناک پیش گوئی کر دی
-
عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی
-
رجب بٹ کا اپنی اہلیہ ایمان فاطمہ سے شادی ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان
-
11 مارچ کو تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان
-
عیدالفطر کب ہوگی؟ بین الاقوامی مرکز برائے فلکیات کا بڑا انکشاف
-
’بانی پی ٹی آئی کو آج یا کل ہی رہا ہونا چاہیے‘
-
ایران پر بڑا حملہ،30سے زائد تیل کے ذخائر تباہ، امریکا اور اسرائیل آمنے سامنے آگئے
-
بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا



















































