بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے پر بے نظیر قتل کیس مزید تاخیر کا شکار

datetime 19  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق صدر جنرل( ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ای ل سے نکالے جانے کے بعد شہید بے نظیر بھٹو قتل کیس مزید تاخیر کا شکار ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ۔ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کا نام بطور ملزم پاکستان پیپلزپارٹی حکومت کی جانب سے سال 2010 میں دیا گیا تھا جس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل سعود عزیز اور اس وقت کے ایس ایس پی خرم شہزاد کی جانب سے ناقص سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کو دہشت گرد حملے میں نشانہ بنائے جانے پر ان کا نام بھی بطور ملزم شامل ہے ۔ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں تینوں ملزمان کو رواں ہفتے سمن جاری ہونا تھے جس میں انہوں نے کرمینل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرانا ہیں ۔ سپیشل پراسیکیوٹر خواجہ امیتاز کے مطابق کیس کا ٹرائل رواں ہفتے مکمل ہونا تھا تاہم سابق صدر پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کی وجہ سے کیس مزید ایک ماہ کے لئے التواءکا شکار ہو گیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرویز مشرف کے وطن واپسی نہ آنے کی صورت میں سیکشن 342 کے تحت اینٹی ٹیرازم کورٹ راولپنڈی سے مدد کے تحت ان کا بیان بطور ویڈیو لنک بھی لیا جا سکتا ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل پرویز مشرف کو 30 بار گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے گئے تاہم وہ ایک بار بھی عدالت کے سامنے پیش نہ ہوئے جبکہ حکومت بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے ان کی حاضری کو ممکن بنانے میں ناکام ہے ۔ #/s#۔(جاوید)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…