بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

چارملزمان کو پکڑلیا ہے، ،حملہ کرانے والوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے، ڈی جی رینجرز سندھ

datetime 18  مارچ‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک) ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبرنے کہاہے کہ پولیس اور رینجرز پر حملوں میں لیاری گینگ وار، کالعدم تنظیمیں اور لسانی و سیاسی جماعتیں ملوث ہوسکتی ہیں، کریکر حملوں میں ملوث چار ملزمان کو پکڑ لیاہے، حملے کرانے والوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔کراچی میں کورنگی کراسنگ میں حملے کا شکار ہونے والی رینجرز چوکی کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کہا کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والی چیک پوسٹ پر 400 گرام باردوی مواد استعمال کیا گیا جس میں 4 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 3 کی حالت خطرے سے باہر ہے جب کہ چوتھا اہلکار شدید زخمی ہے۔ڈی رینجرز نے بتایا کہ کورنگی کراسنگ میں واقع رینجرز چیک پوسٹ حملے میں منظور الدین، کلیم اللہ اور عبدالغفور نامی اہلکار ز زخمی ہوئے ہیں، دھماکے کے باعث چوکی کی دیوار گر گئی جبکہ ایک موٹر سائیکل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ڈی جی رینجرز نے مزید بتایا کہ پولیس کے تعاون سے کریکر حملوں میں ملوث چار ملزمان کا گرفتار کرلیا گیا ہے،فی الحال ان کی شناخت بتانا ٹھیک نہیں ہے، یہ پلاسٹک کنٹینر والے بم مخصوص علاقے میں پولیس اور رینجرز پر پھینکے گئے ہیں، دھماکوں میں پلاسٹک کےکنٹینرزاستعمال ہورہے ہیں،پہلے طرح کے دھماکوں میں لیاری کے گروپس ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز پر حملہ کرنے والے تین گروپ ہیں اور یہ تینوں گروپس مختلف طریقوں اور مواد کے ذریعے اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں، پہلے دھماکے کی قسم وہ ہے جو لیاری میں کیے جاتے ہیں، دوسری قسم کے دھماکے پلاسٹک کنٹینرز میں کئی جاتے ہیں جو مخصوص علاقوں میں پولیس اور رینجرز پر پھینکے گئے جب کہ تیسری قسم کے دھماکے وہ ہیں جو دہشت گرد کرتے ہیں۔میجرجنرل بلال اکبر نے کہا کہ پولیس نے ہماری بہت سے کیسز میں معاونت کی ہے اور کریکر حملوں میں گرفتار ہونے والے 4 ملزمان میں سے ایک ملزم پولیس اور 3 کو رینجرز نے گرفتارکیا ہے جب کہ تازہ حملہ کس گروپ نے کیا اس سے متعلق ابھی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا لیکن امید ہے جلد ہی واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچادیا جائے گا۔قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر گزشتہ تین روز کے دوران یہ پانچواں کریکر حملہ تھا جس کی اطلاع ملتے ہی ڈی جی رینجرز سمیت اعلی افسران ،پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے، جائے وقوعہ سے ایک مشکوک شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جبکہ رینجرز نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن بھی کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…