منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

عذیر بلوچ 13 ماہ سے زیر حراست تھے: اہل خانہ کا دعویٰ

datetime 31  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)عذیر جان بلوچ کی کی سب سے بڑی بیٹی 14 سالہ یسریٰ نے ان کی گرفتاری کے حوالے سے با لآخر خاموشی توڑ ہی دی، ان کا کہنا تھا کہ عذیر بلوچ کو انٹر پول نے 27 دسمبر 2014 کو دبئی ائیر پورٹ سے گرفتار کیا تھا۔عذیر جان کی کراچی کی عدالت میں پیشی کے بعد یسریٰ نے بتایا کہ جس وقت ان کو حراست میں لیا گیا تھا میں ان کے ہمراہ بیٹھی ہوئی تھی، حکام نے اس وقت صرف اتنا بتایا تھا کہ انہیں کچھ وقت کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، لیکن اس کے بعد 13 ماہ لگ گئے، اور اس دن کے بعد ہم نے ان کو آج دیکھا ہے، ہمیں خوشی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔رینجرز کی جانب سے عذیر جان بلوچ کی گرفتاری کی خبر جیسے ہی علاقے میں پھیلی تو لیاری میں ہڑتال کا خدشہ پیدا ہوا تھا البتہ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے تاہم ان کے خاندان کے افراد اور قریبی لوگ لیاری میں سنگھو لین کے علاقے میں ان کے گھر پر جمع ہوئے۔خاندان کے افراد نے رینجرز کی جانب سے عذیر جان بلوچ کی گرفتاری کے دعویٰ پر سنگین شکوک وشبہات ظاہر کیے۔عذیر بلوچ کی بیٹی یسریٰ کی جانب سے فراہم کی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، پیپلز پارٹی کی رہنما اور آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور سمیت دیگر رہنما عذیر بلوچ کے ساتھ موجود ہیں۔عذیر بلوچ کی بیٹی یسریٰ کی جانب سے فراہم کی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، پیپلز پارٹی کی رہنما اور آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور سمیت دیگر رہنما عذیر بلوچ کے ساتھ موجود ہیں خاندان کے افراد کا کہنا تھا کہ ان کو یقین تھا کہ عذیر جان بلوچ گذشتہ ایک سال سے ان کی حراست میں موجود تھا، پولیس کو ان کی منتقلی کی رپورٹس میں تاخیر بس آنکھوں کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

عذیر بلوچ کے گھر کے باہر کھڑے علاقہ مکین عبد الطیف کا کہنا تھا کہ علاقے میں یہ قیاس آرائیاں موجود تھیں کہ عذیر بلوچ کو دوران حراست قتل کر دیا گیا کیونکہ گذشتہ ایک سال سے اس کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آئی تھی۔وہاں موجود دیگر افراد نے یاد دہانی کروائی کہ کس طرح لیاری کے ایک اور گینگسٹر عبدالرحمٰن عرف رحمٰن ڈکیت کو کو کیسے دوران حراست مارا گیا تھا۔عذیر بلوچ کی بیٹی جانب سے فراہم کی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے عذیر بلوچ اہل خانہ کے ہمراہ کسی مقام پر تفریح کیلئے موجود ہیں عذیر بلوچ کی بیٹی جانب سے فراہم کی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے عذیر بلوچ اہل خانہ کے ہمراہ کسی مقام پر تفریح کیلئے موجود ہیں برقع میں خود کو چھپائے عذیر بلوچ کی والدہ نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان کے بیٹے کو سیاسی کھیل میں پیادے کے طور ہر استعمال کیا، اب وہ اس کو بھگتیں گے۔خیال رہے کہ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب 2013 میں رینجرز نے گینگ وار کے کارندوں، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن کے پہلے فیز کا آغاز کیا۔مختلف گروہوں میں مسلح تصادم اور رینجرز کے آپریشن کے باعث گینگ وار کے اکثر افراد اور لیڈروں کو لیاری چھوڑنا پڑا، عذیر بلوچ نے بھی اس علاقے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور پہلے وہ یورپ کے ملک ناروے گیا جہاں سے اس نے پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع ایران کے صوبے سیستان کا سفر کیا جبکہ اس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی منتقل ہوا۔عذیر بلوچ کے گھر کے باہر موجود عبد الطیف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بھی لیاری میں انتشار پیدا کرنے میں برابر کی شریک رہی ہے، خیال رہے کہ صوبائی حکومت نے عذیر بلوچ اور ان کے مخالف نور محمد عرف بابا لاڈلا کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیے تھے۔عبد الطیف کا دعویٰ تھا کہ اگر آپ کل لیاری میں الیکشن کروائیں اورلوگوں سے کہیں کہ وہ کس کو ووٹ دیں گے، تو وہ بلاول بھٹو زرداری کے مقابلے میں عذیر جان بلوچ کو ترجیح دیں گے۔ایک اور علاقہ مکین محمد فضل توجیح دی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کہ لوگ جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اب ایک ووٹ بھی نظریاتی بنیاد پر حاصل نہیں کرتی بلکہ اس کو ووٹ عوام کی ضروریات پورا کرکے ملتے ہیں، لوگ جانتے ہیں کہ ان کو چند نوکریاں مل جائیں گی لیکن اس کے مقابلے ہماری بہت ساری ضروریات عذیر جان بلوچ ہی پورا کرئے گا، چاہے کسی کی بیٹی کی شادی ہو، یا کسی کے گھر پر ماہانہ راشن پہنچانا ہو عذیر بلوچ ہی کرے گا، اور جب وہ یہاں موجود تھا وہ یہی کرتا تھا۔لیاری میں عذیر جان بلوچ کے گھر پر ماحول پر سکون تھا البتہ کبھی کبھی اس کی قسمت پرر ورنے کی آوازیں ہوتی تھیں، ایسے میں ان کی بیٹی 14 سالہ یسریٰ کا کہنا تھا کہ 2013 کے عام انتخابات میں جن افراد کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا رکن بنانے کے لیے میرے والد نے پشت پناہی کی تھی ان لوگوں نے پچھلے ایک سال میں ایک بار بھی ان کی خیریت دریافت نہیں کیا، ہم اپنے طور پر ہی سب کچھ کر رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…