جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ڈی ایچ اے اسکینڈل‘ کامران کیانی کے ریڈ وارنٹ کا امکان

datetime 19  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) ڈیفنس ہاو¿سنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سٹی لاہور کے 16 ارب روپے کے اسکینڈل میں نامزد سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے ثمن کی وصولی سے انکار کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے ممکنہ طور پر ان کی انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کے لیے وزارت داخلہ سے رابطے کا عندیہ دے دیا۔نیب کے ذرائع نے ڈان کو بتایا ہے کہ ‘ہم ثمن لے کر کامران کیانی کے گھر گئے تھے تاہم ان کے اہل خانہ نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیا’۔انھوں ںے مزید کہا کہ وہ اس حوالے سے یاد دہانی کا ایک نوٹس بھی بھیجیں گے۔ذرائع نے کہا کہ ‘اگر کامران کیانی نے نیب کے سامنے پیشی سے گریز کیا تو ان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے لیے ممکنہ طور پر وزارت داخلہ سے رید وارنٹ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا جاسکتا ہے’۔کامران کیانی کے بھائی (ر) بریگیڈئیر امجد کیانی نے ڈان کو بتایا کہ وہ کامران کے حوالے سے نیب کے کسی بھی نوٹس سے لاعلم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ میرے علم میں نہیں ہے’۔نیب کی تفتیش میں کامران کیانی کی شمولیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کے بھائی نے کہا ‘میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا، جیسا کہ میں اس سے بھی لاعلم ہوں’۔اس سے قبل امجد کیانی نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بھائی کسی بھی غلط چیز میں ملوث نہیں ہیں اور انھیں اسکینڈل کے حوالے سے نیب کی تفتیش میں شمولیت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں۔ایک اور ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کامران کیانی نیب کی تفتیش میں شمولیت کے حوالے سے موجودہ حکومت میں موجود اپنے دوستوں سے مشاورت کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ‘جب تک کامران کیانی کو مخصوص ضمانتیں نہیں مل جاتی وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے’۔دوسری جانب نیب نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کر مزکری ملزم کی فرم گلوباکو کا مزید ریکارڈ ضبط کرلیا۔ذرائع کے مطابق بیورو نے گلوباکو کے مالک حماد ارشد کے مزید دو ساتھیوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے، تاہم بیورو نے گرفتاری کی تصدیق نہیں کی.دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیفنس ہاو¿سنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) نے اس سے قبل مذکورہ اسکینڈل میں کامران کیانی کی کمپنی کا نام شامل نہیں کیا تھا لیکن اب ان کی فرم کو گلوباکو کمپنی کے ساتھ ملزم نامزد کردیا گیا ہے۔نیب کے مطابق گلوباکو نے ڈی ایچ اے ای ایم ای کے ساتھ نومبر 2009 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق کھوکھر نیاز بیگ کے قریب 25000 کنال زمین پر ڈی ایچ اے سٹی لاہور کے منصوبے کے لیے زمین کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا۔مذکورہ فرم صرف 13،103 کنال زمین خریدنے میں کامیاب ہوسکی جو متفرق مقامات پر موجود ہے جبکہ ملزم نے مجموعی رقم میں سے صرف ایک ارب 82 کروڑ روپے خرچ کرکے 13،103 کنال زمین کی خریداری کی تھی۔بعد ازاں حماد ارشد نے عوام سے الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی مد میں 15 ارب 47 کروڑ روپے وصول کیے اور انھیں اپنے ذاتی بینک اکاو¿نٹس میں ٹرانسفر کروایا۔نیب کا کہنا ہے کہ ملزم نے یہ پیسہ ذاتی حیثیت میں استعمال کیا اور اس سے دیگر کاروبار میں سرمایہ کاری کی گئی جبکہ ڈی ایچ اے سٹی لاہور میں کسی بھی قسم کا ترقیاتی کام نہیں کروایا گیا.مزید کہا گیا کہ حماد ارشاد نے فوجی اہلکاروں کے خاندانوں اور شہداءکو دھوکا دے کر ان سے اربوں روپے وصول کیے۔اب تک ڈی ایچ اے میں 11،715 متاثرہ افراد رجسٹرڈ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ گلوباکو کمپنی (جو کہ اورنج ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ — ایڈن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ایک شاخ ہے) نے ‘جان بوجھ کر اس منصوبے میں تاخیر کی اور زیادہ مالی فوائد کے لیے مختلف حربے استعمال کیے’۔نیب نے 26 جنوری تک حماد ارشاد کا جسمانی ریمانڈ حاصل کررکھا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…