لاہور(نیوز ڈیسک) ڈیفنس ہاو¿سنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سٹی لاہور کے 16 ارب روپے کے اسکینڈل میں نامزد سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے ثمن کی وصولی سے انکار کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے ممکنہ طور پر ان کی انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کے لیے وزارت داخلہ سے رابطے کا عندیہ دے دیا۔نیب کے ذرائع نے ڈان کو بتایا ہے کہ ‘ہم ثمن لے کر کامران کیانی کے گھر گئے تھے تاہم ان کے اہل خانہ نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیا’۔انھوں ںے مزید کہا کہ وہ اس حوالے سے یاد دہانی کا ایک نوٹس بھی بھیجیں گے۔ذرائع نے کہا کہ ‘اگر کامران کیانی نے نیب کے سامنے پیشی سے گریز کیا تو ان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے لیے ممکنہ طور پر وزارت داخلہ سے رید وارنٹ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا جاسکتا ہے’۔کامران کیانی کے بھائی (ر) بریگیڈئیر امجد کیانی نے ڈان کو بتایا کہ وہ کامران کے حوالے سے نیب کے کسی بھی نوٹس سے لاعلم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ میرے علم میں نہیں ہے’۔نیب کی تفتیش میں کامران کیانی کی شمولیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کے بھائی نے کہا ‘میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا، جیسا کہ میں اس سے بھی لاعلم ہوں’۔اس سے قبل امجد کیانی نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بھائی کسی بھی غلط چیز میں ملوث نہیں ہیں اور انھیں اسکینڈل کے حوالے سے نیب کی تفتیش میں شمولیت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں۔ایک اور ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کامران کیانی نیب کی تفتیش میں شمولیت کے حوالے سے موجودہ حکومت میں موجود اپنے دوستوں سے مشاورت کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ‘جب تک کامران کیانی کو مخصوص ضمانتیں نہیں مل جاتی وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے’۔دوسری جانب نیب نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کر مزکری ملزم کی فرم گلوباکو کا مزید ریکارڈ ضبط کرلیا۔ذرائع کے مطابق بیورو نے گلوباکو کے مالک حماد ارشد کے مزید دو ساتھیوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے، تاہم بیورو نے گرفتاری کی تصدیق نہیں کی.دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیفنس ہاو¿سنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) نے اس سے قبل مذکورہ اسکینڈل میں کامران کیانی کی کمپنی کا نام شامل نہیں کیا تھا لیکن اب ان کی فرم کو گلوباکو کمپنی کے ساتھ ملزم نامزد کردیا گیا ہے۔نیب کے مطابق گلوباکو نے ڈی ایچ اے ای ایم ای کے ساتھ نومبر 2009 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق کھوکھر نیاز بیگ کے قریب 25000 کنال زمین پر ڈی ایچ اے سٹی لاہور کے منصوبے کے لیے زمین کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا۔مذکورہ فرم صرف 13،103 کنال زمین خریدنے میں کامیاب ہوسکی جو متفرق مقامات پر موجود ہے جبکہ ملزم نے مجموعی رقم میں سے صرف ایک ارب 82 کروڑ روپے خرچ کرکے 13،103 کنال زمین کی خریداری کی تھی۔بعد ازاں حماد ارشد نے عوام سے الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی مد میں 15 ارب 47 کروڑ روپے وصول کیے اور انھیں اپنے ذاتی بینک اکاو¿نٹس میں ٹرانسفر کروایا۔نیب کا کہنا ہے کہ ملزم نے یہ پیسہ ذاتی حیثیت میں استعمال کیا اور اس سے دیگر کاروبار میں سرمایہ کاری کی گئی جبکہ ڈی ایچ اے سٹی لاہور میں کسی بھی قسم کا ترقیاتی کام نہیں کروایا گیا.مزید کہا گیا کہ حماد ارشاد نے فوجی اہلکاروں کے خاندانوں اور شہداءکو دھوکا دے کر ان سے اربوں روپے وصول کیے۔اب تک ڈی ایچ اے میں 11،715 متاثرہ افراد رجسٹرڈ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ گلوباکو کمپنی (جو کہ اورنج ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ — ایڈن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ایک شاخ ہے) نے ‘جان بوجھ کر اس منصوبے میں تاخیر کی اور زیادہ مالی فوائد کے لیے مختلف حربے استعمال کیے’۔نیب نے 26 جنوری تک حماد ارشاد کا جسمانی ریمانڈ حاصل کررکھا ہے۔
ڈی ایچ اے اسکینڈل‘ کامران کیانی کے ریڈ وارنٹ کا امکان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(تیسرا حصہ)
-
سر میں گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق
-
بچی کو 16 کروڑ روپے کا زندگی بچانے والا انجیکشن لگادیا گیا
-
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں بڑی کمی ہوگئی
-
کل تمام دفاتر بند رکھنے کا اعلان
-
ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا ءسے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں شامل کر دیا
-
یہ 6 ادویات ہرگز نہ خریدیں ! ہنگامی الرٹ جاری
-
فنکشن سے واپسی پر گاڑی روک کر 15 افراد کی خواجہ سرا سے اجتماعی جنسی زیادتی اور تشدد کیس
-
ڈیزل سے لدا پاکستانی جہاز خیرپور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد واپس ہوگیا
-
انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ
-
یو اے ای نے پاکستانی و بھارتیوں سمیت متعدد کرکٹرز کو شہریت دیدی
-
شوہر کی دوسری شادی میں پہلی بیوی کی انٹری پر دولہا اور دلہن فرار
-
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا
-
بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ناقابل یقین ریکارڈ بنا ڈالا



















































