بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں انوکھی شرط: ایک سے زائد بیویوں والا اردو ٹیچر نہیں بن سکتا

datetime 14  جنوری‬‮  2016 |

لکھنؤ(نیوز ڈیسک)ہندوستان کی ریاست اتر پردیش میں ایک سے زائد بیویاں رکھنے والے افراد کو اسکولوں میں اردو کے اسسٹنٹ ٹیچر کی آسامی کے لیے غیر موزوں قرار دے دیا گیا۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں محکمہ بنیادی تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ وہ افراد جن کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں وہ اردو ٹیچر کی اسامی کے لیے درخواستیں جمع نہیں کروا سکتے۔نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر شادی شدہ خواتین اساتذہ پر ایسے شادی شدہ مرد سے شادی پر پابندی عائد کی گئی ہے جو اپنی پہلے بیوی کے ساتھ رہ رہا ہو۔خیال رہے کہ اتر پردیش کی ریاستی حکومت نے ساڑھے 3500 اردو کے اساتذہ کی بھرتی شروع کی ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے دیگر مطلوبہ قابلیت کے ساتھ ساتھ خاص طور پر امیدواروں کی ازدواجی حیثیت کے حوالے سے نشاندہی کی ہے، یوں نوکری کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کو خاص طور پر اپنی ازدواجی حیثیت کے ساتھ بیوی یا شوہر کے حوالے سے بھی تفصیلات دینی ہوں گی۔آگرہ کے بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر گریجیش چوہدری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ایسی شرائط کا اطلاق ریاست میں تمام سرکاری نوکریوں پر ہوتا ہے، البتہ بعض اوقات اس کو مزید سراہت کے ساتھ بھی بتا دیا جاتا ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے بنائے گئے مسلم پرسنل لاء4 کے تحت مسلم امیدوار کے انتقال کی صورت میں پنشن کی رقم بیواؤں میں یکساں تقسیم لازمی ہے لیکن ہندوستانی آئین کے تحت پنشن قانون میں یہ شق موجود نہیں لہذا اس قانونی پیچیدگی سے بچنے کے لئے انتظامیہ نے حل یہ نکالا کہ ایک سے زائد بیویاں رکھنے والے امیدوار کو نوکری ہی نہ دی جائے۔ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے معروف وکیل شہزاد پونا والا کا اس حوالے سے کہناتھا کہ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے دوبیویاں ہیں بحیثیت سابق وزیر اعلیٰ وہ لازمی طور پر پنشن لے رہے ہوں گے تو کیا پنشن کے حوالے سے ان کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھتا۔شہزاد پونا والا کا مزید کہنا تھا کہ جب ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالتیں مسلمانوں کے قوانین قبول کرتی ہے تو اتر پردیش کی حکومت کیسے اس کے خلاف جا سکتی ہے۔انہوں نے یہ معاملہ ہندوستان کی اقلیتوں کے قومی کمیشن اور ہیومین ریسورس ڈیولپمنٹ کی مرکزی وزارت کے سامنے اٹھانیکا بھی اعلان کیا ہے۔دوسری جانب آل انڈیا مسلم وویمن پرسنل لاء4 کی صدر سائشتہ امبر نے بھی اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ان خواتین کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے جو کہ کسی ایسے شخص سے شادی کر چکی ہیں جو پہلے سے شادی شدہ تھے یا ان کی بیوی تھی۔واضح رہے کہ رواں ماہ 19 جنوری تک امیدواروں کی درخواستیں وصول کرنے کا اعلان کیا گیا ہے.



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…