جمعرات‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2026 

امتحان کوبھول جائیں، پڑھنے کے اندازسے کمپیوٹرآپ کا نتیجہ بتاسکتا ہے!

datetime 5  جنوری‬‮  2016 |

کیلیفورنیا(نیوزڈیسک) تعلیمی قابلیت اور سمجھ کو جاننے کا ایک واحد راستہ امتحان ہی ہوتا ہے جس میں مختلف طریقوں سے کسی مضمون پر طالب علم کی گرفت کو جانچا جاتا ہے لیکن اب ایک کمپیوٹر پروگرام طلبا و طالبات کے پڑھنے کے انداز اور پچھلا ریکارڈ دیکھ کر اس کی پیشگوئی کرسکتا ہے طالبعلم کس حد تک اپنے مضمون میں گرفت رکھتے ہیں یا ان کا نتیجہ کیا آسکتا ہے۔اسٹینفرڈ یونیورسٹی اور کیلیفورنیا میں گوگل ہیڈکوارٹرز نے مشترکہ طور پر ایسا کمپیوٹر پروگرام تیار کیا ہے جو طالبعلم کے پچھلے امتحانات اورعملی کام ، ان کی غلطیوں اور دیگر باتوں کو دیکھ کر ایک اندازہ قائم کرتا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی طالبعلموں کی کارکردگی پر سافٹ ویئرسے مدد لی گئی ہے لیکن یہ پروگرام مزید گہرائی اور زیادہ ڈیٹا پرکھنے کے بعد اپنے نتائج ظاہر کرتا ہے۔یونیورسٹی کے سائنسداں کِرس پائش اور ان کے ساتھیوں نے کمپیوٹر میں 14 لاکھ طالبعلموں کی جانب سے ریاضی (میتھس) امتحانات کے پرچے اور ان کے نتائج شامل کیے۔ اس دوران ایک نیورل نیٹ ورک نے سوالات کو ان کے زمرے جیومیٹری، اسکوائر روٹ، گرافس اور الجبرا وغیرہ کے لحاظ سے الگ الگ سوالات ترتیب دیئے۔ ڈیٹا ملنے کے بعد کمپیوٹر نے باری باری ہر طالبعلم کا پرچہ حل کرنے کا انداز نوٹ کیا، غلطیوں کو دیکھا اور ان کی کمزوریوں کو سامنے رکھا۔ اس طرح 85 فیصد حد تک درست پیشگوئی کی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ طالبعلم ریاضی کے کس مسئلے کو درست اور کسے غلط طورپرحل کرے گا جب کہ سافٹ ویئر یہ وجہ بھی بتاسکتا ہے کہ طالبعلم نے کوئی سوال کیوں غلط کیا۔
ماہرین نے اس سافٹ ویئر کو مہنگے ٹیوشن اورٹیوٹرسے بہترقراردیا ہے جو طالبعلم کے بہت وسیع ڈیٹا کو نوٹ کرکےاس کی غلطیوں کی بہتر نشاندہی کرتا ہے جسے جان کر وہ امتحانات میں ا?گے بڑھ سکتے ہیں۔ اگرچہ اب بھی یہ حقیقی شے نہیں کیونکہ بری کارکردگی کی کئی دوسری وجوہ بھی ہوسکتی ہیں لیکن مستقبل میں اس پروگرام کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ماہرین پرامید ہیں کہ بہت جلد یہ سافٹ ویئر باقاعدہ امتحان کی جگہ لے سکے گا یا امتحان کا ایک حصہ ضرور بن جائے گا۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…