منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایک پاکستانی نے مجھے سزائے موت دلوانے کی کوشش کی، فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا دعویٰ

datetime 10  جنوری‬‮  2015 |

فرانسیسی جریدے کے دفتر میں دہشت گرد حملے میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ” پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند” نے انہیں موت کا حقدار ٹھہرانے کی کوشش کی۔

فیس بک اکاﺅنٹ پر اپنے اسٹیٹس میں مارک زکربرگ نے کہا کہ چند سال پہلے ایک پاکستانی شدت پسند نے فیس بک کی جانب سےپیغمبر اسلام حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے متعلق توہین آمیز مواد پر پابندی مسترد کرنے پر انہیں موت کا حقدار ٹھہرانے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ہم اس فیصلے پر اس لیے قائم رہے کیونکہ مختلف آوازیں چاہے کئی بار وہ ناگوار ہی کیوں نہ محسوس ہو، سے مل کر ہی دنیا زیادہ بہتر اور دلچسپ مقام بنتی ہے۔

فیس بک کے بانی کا کہنا تھا کہ ان کا سوشل نیٹ ورک ” ہرملک” کے قوانین کی پابندی کرتا ہے مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں ” کوئی ایک ملک یا گروپ کسی کو مجبور نہیں کرسکتا کہ دنیا بھر میں لوگوں کی شیئرنگ کو روک سکے”۔

انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ روز ہونے والے حملے اور شدت پسندی پر اپنے تجربات کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ شدت پسندوں کا ایک گروپ آوازوں اور ہر ایک کے خیالات کو دبانے کی کوشش کررہا ہے جسے ہمیں مسترد کردینا چاہئے۔

اس اسٹیٹس پر متعدد افراد نے بھی اظہار خیال کیا جن میں سے ایک عمر خان نامی ایک پاکستانی بھی شامل تھا جس کا کہنا تھا مارک بطور پاکستانی میں آپ کے خیالات کو سراہتا ہوں مگر میں ایک بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ تمام پاکستانی اس طرح کی ذہنیت کے حامل نہیں اور آپ ایک فرد کے اقدام پر پوری قوم کو مودر الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔

مارک زکربرگ نے بھی اس کا جواب ان الفاظ میں دیا ہاں آپ ٹھیک ہیں، میرے متعدد پاکستانی دوست ہیں اور میں جانتا ہوں کہ بیشتر پاکستانی اس فرد کی طرح نہیں جس نے مجھے مارنے کی دھمکی دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…