منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے زمین سے مشابہت رکھنے والا سیارہ دریافت کر لیا

datetime 7  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نظام شمسی سے بہت زیادہ فاصلے پر انھوں نے جن نئے آٹھ سیاروں کو دیکھا ہے ان میں سے ایک زمین سے بہت زیادہ مشابہت رکھنے والا کرہ ہے۔انھوں نے اسے ’زمین سے بہت مشابہت رکھنے والا انجان کرہ‘ قرار دیا ہے۔ان آٹھوں سیاروں کو ناسا کے کیپلر خلائی دوربین سے دیکھا گیا ہے جس کے بعد اس طرح کے ’ایگزوپلینٹس‘ کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے صرف تین ایسے ہیں جو اپنے محور والے ستارے سے اتنی دوری پر گردش کر رہے ہیں کہ وہاں آبادی ممکن ہے جبکہ ایک بطور خاص زمین کی طرح چٹان والا سیارہ ہے جو کہ زمین سے قدرے گرم ہے۔یہ انکشاف امریکہ میں جاری امریکی ماہرفلکیات کی تنظیم کے اجلاس میں کیا گیا۔اس سے قبل ’کیپلر 186ایف‘ کو زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا سیارہ اور زمین کا ’جڑواں سیارہ‘ کہا گیا تھا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین سے بہت مشابہت رکھنے والا سیارہ جسے ’کیپلر 438 بی‘ نام دیا گیا ہے وہ ’کیپلر 186ایف‘ سے بھی زیادہ زمین سے مشابہت رکھتا ہے جسے پہلے زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا سیارہ اور زمین کا ’جڑواں سیارہ‘ کہا گیا تھا۔
یہ نیا سیارہ زمین سے حجم میں 12 فیصد بڑا اور ’186ایف‘ سے بھی بڑا ہے۔ تاہم درج? حرارت کے لحاظ سے یہ زمین سے زیادہ قریب ہے۔ شاید وہ اپنے سورج سے 40 فی صد زیادہ گرمی حاصل کرتا ہے جتنا زمین اپنے سورج سے حاصل کرتی ہے۔کیلیفورنیا میں واقع سیٹی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ڈوگ کالڈویل کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم کیپلر 438 بی کی سطح پر ہوں تو وہ نسبتاً زیادہ گرم ہوگا۔‘انھوں نے بتایا: ’یہ سیارہ ایک سورج سے نسبتاً ٹھنڈے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے۔۔۔ اس لیے اس کا آسمان ہمارے آسمان سے زیادہ سرخ نظر آئے گا۔‘’کیپلر 186ایف‘ کی فنکارانہ تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے
انھوں نے مزید کہا: ’اس کے بارے میں قریب سے جان پانا مشکل ہوگا کیونکہ یہ ہماری زمیں سے 475 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ یہ کس چیز کا بنا ہے۔‘ڈاکٹر کالڈویل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیپلر کی پیمائش اور دیگر پیمائش سے ہم یہ نہیں معلوم کر سکے کہ آیا ہمارے سیارے کی طرح وہاں بھی مچھلیوں والے سمندر اور پیڑ پود وں والے براعظم ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم کچھ معلوم ہے تو وہ ان کا حجم ہے اور جو توانائی وہ اپنے سورج سے حاصل کر رہا ہے۔اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ زمین کی سائز کا ہے اور زمین کے برابر ہی توانائی حاصل کررہا ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…