اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے زمین سے مشابہت رکھنے والا سیارہ دریافت کر لیا

datetime 7  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نظام شمسی سے بہت زیادہ فاصلے پر انھوں نے جن نئے آٹھ سیاروں کو دیکھا ہے ان میں سے ایک زمین سے بہت زیادہ مشابہت رکھنے والا کرہ ہے۔انھوں نے اسے ’زمین سے بہت مشابہت رکھنے والا انجان کرہ‘ قرار دیا ہے۔ان آٹھوں سیاروں کو ناسا کے کیپلر خلائی دوربین سے دیکھا گیا ہے جس کے بعد اس طرح کے ’ایگزوپلینٹس‘ کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے صرف تین ایسے ہیں جو اپنے محور والے ستارے سے اتنی دوری پر گردش کر رہے ہیں کہ وہاں آبادی ممکن ہے جبکہ ایک بطور خاص زمین کی طرح چٹان والا سیارہ ہے جو کہ زمین سے قدرے گرم ہے۔یہ انکشاف امریکہ میں جاری امریکی ماہرفلکیات کی تنظیم کے اجلاس میں کیا گیا۔اس سے قبل ’کیپلر 186ایف‘ کو زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا سیارہ اور زمین کا ’جڑواں سیارہ‘ کہا گیا تھا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین سے بہت مشابہت رکھنے والا سیارہ جسے ’کیپلر 438 بی‘ نام دیا گیا ہے وہ ’کیپلر 186ایف‘ سے بھی زیادہ زمین سے مشابہت رکھتا ہے جسے پہلے زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا سیارہ اور زمین کا ’جڑواں سیارہ‘ کہا گیا تھا۔
یہ نیا سیارہ زمین سے حجم میں 12 فیصد بڑا اور ’186ایف‘ سے بھی بڑا ہے۔ تاہم درج? حرارت کے لحاظ سے یہ زمین سے زیادہ قریب ہے۔ شاید وہ اپنے سورج سے 40 فی صد زیادہ گرمی حاصل کرتا ہے جتنا زمین اپنے سورج سے حاصل کرتی ہے۔کیلیفورنیا میں واقع سیٹی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ڈوگ کالڈویل کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم کیپلر 438 بی کی سطح پر ہوں تو وہ نسبتاً زیادہ گرم ہوگا۔‘انھوں نے بتایا: ’یہ سیارہ ایک سورج سے نسبتاً ٹھنڈے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے۔۔۔ اس لیے اس کا آسمان ہمارے آسمان سے زیادہ سرخ نظر آئے گا۔‘’کیپلر 186ایف‘ کی فنکارانہ تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے
انھوں نے مزید کہا: ’اس کے بارے میں قریب سے جان پانا مشکل ہوگا کیونکہ یہ ہماری زمیں سے 475 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ یہ کس چیز کا بنا ہے۔‘ڈاکٹر کالڈویل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیپلر کی پیمائش اور دیگر پیمائش سے ہم یہ نہیں معلوم کر سکے کہ آیا ہمارے سیارے کی طرح وہاں بھی مچھلیوں والے سمندر اور پیڑ پود وں والے براعظم ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم کچھ معلوم ہے تو وہ ان کا حجم ہے اور جو توانائی وہ اپنے سورج سے حاصل کر رہا ہے۔اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ زمین کی سائز کا ہے اور زمین کے برابر ہی توانائی حاصل کررہا ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…