منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مشہور ٹی وی اینکر مبشر لقمان اور سلمان اقبال نئی مشکل میں پھنس گئے

datetime 6  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال اور اینکر پرسن مبشر لقمان کے خلاف توہین عدالت پر مبنی پروگرام نشر کرنے پر فردِ جرم عائد کردی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو مذکورہ مقدمے کی سماعت کی۔

ملزمان مبشر لقمان اور سلمان اقبال نے عدالت میں تحریری معافی نامہ پیش کیا اور عدالت سے غیرمشروط معافی بھی مانگی تاہم عدالت نے اس معافی کو قبول نہ کرتے ہوئے ملزمان پر فرد جُرم عائد کر دی۔

کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل عرفان قادر اور بینچ کے اراکین کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

عرفان قادر کا موقف تھا کہ غیر مشروط معافی مانگنے کے باوجود عدالت نے اُن کے موکلین کو معاف نہیں کیا۔

سماعت کے دوران مبشر لقمان نے اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ اس سب کے ذمہ دار نہیں ہیں کیونکہ انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ میں پروگرام میں کیا کہنے جا رہا ہوں’۔

جبکہ سلمان اقبال کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا علم ہے تاہم اصل الزامات کا علم نہیں ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو مقدمے کا پراسیکیوٹر مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ 14 روز کے اندر اندر استغاثہ کے گواہوں کی فہرست عدالت میں پیش کی جائے۔

بعد ازاں مذکورہ کیس کی سماعت 22 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ٹاک شو ’کھرا سچ‘ کے اینکر پرسن مبشر لقمان نے گزشتہ برس 29 مئی کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ئے ان پر جیو ٹی وی نیٹ ورک کے مالک میر شکیل الرحمان سے تعلقات کا الزام لگایا تھا۔

پروگروم میں جسٹس خواجہ کی بیوی کی جانب سے پنجاب حکومت کو لاہور میں پراپرٹی فروخت کرنے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔

جس پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پروگرام ’کھرا سچ‘ اور اس کے اینکر مبشر لقمان پر توہین عدالت کے جرم میں پابندی لگا دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…