چین کا نظام
ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں بہت دل چسپ واقعات سنائے‘ ان کے بقول ’’میں جب چائنہ آیا تو مجھے سڑک پر حیران کن مشاہدہ ہوا‘ بارش برس رہی تھی‘ پہاڑ سے پانی مسلسل سڑک پر گر رہا تھا اور ایک بزرگ سویپر سڑک کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا‘ وہ وائیپر سے پانی صاف کرتا تھا لیکن پہاڑ سے مزید پانی سڑک پر آگرتا تھا‘ میں کھڑا ہو کر یہ حماقت دیکھنے لگا‘ بارش بھی نہیں رک رہی تھی اور بوڑھے کے ہاتھ بھی نہیں تھم رہے تھے‘ مجھے شروع میں لگا شاید بوڑھے کے دماغی پیچ ڈھیلے ہیں لیکن پھر وہ مجھے ٹھیک محسوس ہونے لگا لہٰذا میں برستی بارش میں اس کے پاس گیا اور اس سے اس لاحاصل کوشش کی وجہ پوچھی‘ وہ مسکرایا اور بولا‘ دس منٹ بعد میری ڈیوٹی ختم ہو جائے گی‘ میں اس کے بعد تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں‘ میں برآمدے میں آ کر اس کی ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا‘ وہ دس منٹ بعد میرے پاس آ گیا‘ اپنی برساتی اتاری اور کہا ’’ہاں اب بتائو تم کیا پوچھ رہے تھے؟‘‘ میں نے اپنا سوال دہرا دیا ’’بارش ہو رہی ہے‘ پہاڑ سے مسلسل پانی گر رہا ہے‘ آپ سڑک کو جتنا چاہو صاف کر لو‘ یہ صاف نہیں ہو گی پھر تم اس پر پوچا کیوں مار رہے ہو؟‘‘ بوڑھے نے ہنس کر جواب دیا’’ مجھے سڑک کے اس ٹکڑے کو صاف کرنے کے لیے ہائر کیا گیا ہے‘ میری چار گھنٹے ڈیوٹی ہے‘ میرے کنٹریکٹ میں ہے‘ میں مسلسل چار گھنٹے سڑک صاف کروں گا‘ اس میں کسی جگہ یہ نہیں لکھا اگر بارش ہو جائے تو تم کام بند کر دو گے‘ میں چار گھنٹے کا ملازم ہوں‘ میں اگر چار گھنٹے پورے نہیں کروں گا تو یہ بے ایمانی ہو گی چناں چہ بارش آئے یا نہ آئے‘ میں سڑک صاف کرتا رہتا ہوں‘‘ ڈاکٹر عثمان کے بقول مجھے اس بوڑھے چینی نے لاجواب کر دیا‘ اس کی اگر ڈیوٹی تھی تو اس نے وہ ہر صورت پوری کرنی تھی اور وہ نہایت ایمان داری سے اپنی ڈیوٹی پوری کر رہا تھا‘ مجھے اس وقت چین کی ترقی کی وجہ سمجھ آ گئی جب کہ اس کے مقابلے میں ہم پاکستانی حالات کو ڈیوٹی پر فوقیت دیتے ہیں‘ بارش ہو جائے‘ گرمی پڑ جائے یا سردی ہو جائے ہم فوراً اپنی ذمہ داری چھوڑ دیتے ہیں‘ چینیوں
کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ دوسرا واقعہ سیکورٹی گارڈ کا تھا‘ ہم نے اپنے گودام میں چوکی دار رکھا‘ گودام کے باہر چوکی دار کی پکٹ کے ساتھ زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا تھا‘ وہ بمشکل مرلے کا چوتھا حصہ تھا یعنی چند فٹ زمین‘ چوکی دار نے اپنے ہاتھوں سے زمین کی حد بندی کی‘ کہیں سے سبزیوں کے بیج لایا اور اس نے وہاں سبزیاں اگا لیں‘ ہم اس کی اس کوشش پر حیران رہ گئے‘ اس نے دیکھا اس کے قرب و جوار میں ایک سورس موجود ہے اور وہ سورس استعمال نہیں ہو رہا چناں چہ اس نے وہاں سبزیاں اگا کر اپنی خوراک اور مصروفیت دونوں کا بندوبست کر لیا‘ مجھے اس وقت چینی سوچ کا اندازہ ہوا‘ یہ لوگ اپنے تھوڑے سے‘ معمولی سے وسائل بھی ضائع نہیں کرتے‘ یہ مونگ پھلی کے چھلکے بھی ضائع نہیں کرتے جب کہ ہمارے شہروں اور دیہات میں کتنی زمینیں ویران اور بنجر پڑی ہیں اور ہم سبزیاں اور اناج خرید کر کھاتے ہیں‘ کیا لوگ گھروں اور چھتوں پر سبزیاں نہیں اگا سکتے؟ ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے یہ سوال پوچھا‘ میں نے نفی میں سر ہلا کر جواب دیا‘ مسئلہ وسائل یا زمینیں نہیں ہوتیں‘ مسئلہ اپروچ یا سوچ ہوتی ہے اگریہ غلط ہو گی اگر اس میں گڑبڑ ہو گی تو پھر وسائل خواہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں انسان ذلیل ہو کر بھوکا مرتا ہے‘ چینیوں کی سوچ کی سمت درست ہے لہٰذا وسائل ان کے لیے مسئلہ نہیں ہیں جب کہ ہماری سوچ کا زاویہ ٹھیک نہیں چناں چہ ہم وسائل کے ڈھیر پر بیٹھ کر بھی رو رہے ہیں۔
مجھے پانچویں مرتبہ چین میں سات دن گزارنے کا موقع ملا‘ میں تین دن اپنے گروپ کے ساتھ بیجنگ میں رہا اور تین دن ڈاکٹر عثمان سعید کے ساتھ چانگ چاچے اور آخری رات شنگھائی میں گزار کر واپس آ گیا‘ ان سات دنوں میں چین کی چند نئی چیزوں کا مشاہدہ ہوا‘ بیجنگ چند برس قبل تک دنیا کے گندے ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا‘ اس میں پولوشن کی وجہ سے ہر وقت دھند چھائی رہتی تھی لیکن یہ اب صاف ستھرا شہر ہے‘ حکومت نے اس کے لیے پورے شہر میں وسیع پیمانے پر پلانٹیشن کی‘ بیجنگ کے لیے ایسے پودے تلاش کیے گئے جو جلدی بڑے بھی ہو جاتے ہیں‘ فضا کو بھی صاف کر دیتے ہیں اور گند بھی نہیں ڈالتے اور پھر یہ درخت اور پودے لاکھوں کی تعداد میں بو دیے گئے‘ رہائشی کمپائونڈ توڑ کر وہاں جنگل اور پارکس بنائے گئے چناں چہ اگر آپ آج بیجنگ کو فضا سے دیکھیں تو یہ آپ کو ہر طرف سے ہرا بھرا دکھائی دے گا‘ آپ پورے شہر میں گھومیں آپ کو ہر جگہ درخت اور پودے ملیں گے‘ سڑکوں کی دونوں سائیڈز اور فٹ پاتھوں کے ساتھ ساتھ درخت ہیں‘ حکومت پٹرول کی گاڑیاں بھی کم کرتی جا رہی ہے‘ الیکٹرک گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں سبز ہوتی ہیں جب کہ پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی پلیٹیں نیلی ہیں‘ میں نے اس وزٹ میں دیکھا سبز نمبر پلیٹس کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے‘ بڑے شہروں سے موٹر سائیکلیں ختم کر دی گئی ہیں‘ ان کی جگہ الیکٹرک سکوٹی ہیں‘ آپ کو ہر شہر میں سکوٹیز نظر آتی ہیں اور یہ مرد اور عورتیں دونوں چلاتے ہیں‘ ہمیں پورے شہر میں سکوٹیز کی پارکنگ ملیں۔ سڑکوں سے گاڑیوں کا لوڈ کم کرنے کے لیے حکومت نے تہران کی طرح ٹریفک مینجمنٹ کر رکھی ہے‘ ہفتے میں ایک دن دو قسم کی نمبر پلیٹس کی گاڑیاں سڑکوں پر نہیں آ سکتیں مثلاً پیر کو وہ گاڑیاں جن کی نمبر پلیٹیں دو اور سات سے سٹارٹ ہوتی ہیں وہ سڑک پر نہیں آئیں گی‘ منگل کے دن تین اور آٹھ پر پابندی ہو گی اور یہ عدد اس کے بعد دنوں کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے جاتے ہیں لیکن یہاں ایک اور دل چسپ بات بھی ہے‘ چین میں شہری ایک ڈرائیونگ لائسنس پر صرف ایک گاڑی رکھ سکتے ہیں‘ یہ دوسری گاڑی نہیں خرید سکتے چناں چہ یہ ممکن نہیں انسان ایک دن ایک نمبر کی گاڑی گیراج میںرکھ کر اس دن دوسری سڑک پر نکال لے اگر اس دن اس کا نمبر بین ہو گا تو اس دن اسے سکوٹی یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ پر دفتر یا گھر جانا پڑے گا‘ آپ چین میں عارضی ڈرائیونگ لائسنس بھی لے سکتے ہیں‘ ہم اگر پاکستانی ہیں تو ہم ڈرائیونگ لائسنس اتھارٹی کے دفتر جائیں گے‘ اپنا پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس دکھا ئیں گے اور وہ ہمیں عارضی لائسنس جاری کر دے گی جس کے بعد ہم چین میں گاڑی چلا سکیں گے‘ عارضی لائسنس کی فیس بہت کم ہے‘ گاڑیاں سستی ہیں اور قسطوں پر بھی دستیاب ہیں لیکن لوگ ایک وقت میں ایک ہی گاڑی رکھ سکتے ہیں‘ یورپی اور امریکی گاڑیاں ’’سٹیٹس سمبل‘‘ ہیں‘ امیر اور خوش حال لوگ یورپی گاڑیاں پسند کرتے ہیں‘ پورا چین ’’کیمرہ سٹیٹ‘‘ ہے‘ آپ کہیں بھی چلے جائیں آپ کیمرے سے نہیں بچ سکتے‘ دنیا میں تین قسم کے کیمرے ہوتے ہیں‘ سی سی ٹی وی کیمرے‘ یہ صرف موومنٹ چیک کرتے ہیں‘ سمارٹ کیمرے یہ لوگوں کا پیچھا کرتے ہیں‘ کوئی بھی مطلوبہ شخص جہاں جاتا ہے‘ یہ اسے ٹریک کرلیتے ہیں اور شناختی کیمرے‘ یہ ملک کے ڈیٹا بینک سے منسلک ہوتے ہیں‘ یہ ہر شخص کو شناخت کرتے ہیں اور سکرین پر اس کا پورا ڈیٹا دے دیتے ہیں‘ چین کیمروں کی چوتھی جنریشن میں چلا گیا ہے‘ اس نے ’’بی ہیورل کیمرے‘‘ (Behavioral) ایجاد کر لیے ہیں‘ یہ کیمرے انسان کی چال اور ڈھال دیکھ کر بتا دیتے ہیں اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے چناں چہ یہ ملزموں کو واردات سے پہلے پکڑ لیتے ہیں‘ چین 75 سال بند رہا‘ یہ سیاحوں کو ’’ڈسکرج‘‘ کرتے تھے‘ ان کا خیال تھا اس سے ان کی سیکورٹی کا نظام ڈھیلا ہو جائے گا لیکن پانچ برسوں سے بالخصوص کورونا کے بعد چین کو سیاحت کے لیے کھول دیا گیا ‘ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ سسٹم ہے‘ چین میں اب کوئی شخص چھپ یا غائب نہیں ہو سکتا‘ یہ جہاں جائے گا سسٹم اس کے ساتھ ساتھ جائے گا مثلاً ہم جب ویزہ اپلائی کرتے ہیں تو ہمارے تمام کاغذات سسٹم میں ’’سیو‘‘ ہو جاتے ہیں‘ ہم جوں ہی چین کے کسی ائیرپورٹ پر اتریں گے ہماری تصویر اتاری جائے گی اور پاسپورٹ سکین ہو گا‘ یہ محفوظ ڈیٹا کے ساتھ میچ کیے جائیں گے اور اس کے بعد ہم جہاں بھی جائیں گے ہماری شکل اور ہمارا پاسپورٹ ہماری شناخت ہو گا‘ ہر جگہ ہماری تصویر لی جائے گی اور پاسپورٹ سکین ہو گا اور پھر گیٹ کھلے گا‘ ٹرین سے لے کر میوزیم تک تمام ٹکٹ بھی پاسپورٹ اور تصویر ہیں‘ ہم نے بس فیس ادا کرنی ہے‘ ہم اس کے بعد جس گیٹ پر بھی جائیں گے ہماری شکل اور پاسپورٹ دروازے کھول دے گا‘ ملک کے بڑے شہروں کے بڑے زیبرا کراسنگ پر درجنوں کیمرے لگے ہیں‘ یہ کراسنگ پر کھڑے تمام لوگوں کو شناخت کرتے ہیں‘ انہیں اگر ان میں کوئی ایسا شخص نظر آ جائے جس کی شناخت نہیں ہو رہی ہے تو چند لمحے میں پولیس آئے گی اور اسے لے کر روانہ ہو جائے گی‘ ٹیکسیوں کے اندر بھی دو قسم کے کیمرے لگے ہیں‘ ایک کیمرہ سڑک کی طرف ہوتا ہے جب کہ دوسرے کا رخ پچھلی سیٹ پر بیٹھی سواریوں کی طرف ہوتا ہے اور یہ ڈیٹا بھی سیدھا ڈیٹا سنٹر میں جا رہا ہوتا ہے‘ پورے چین میں کوئی شخص کسی اجنبی کو ریاست کو مطلع کیے بغیر گھر میں نہیں ٹھہرا سکتا‘ پے انگ گیسٹ کے لیے بھی مہمان کی تصویر کھینچ کر اسے ’’مین ڈیٹا‘‘ میں بھجوانا ضروری ہوتا ہے ورنہ کیس بن جاتا ہے اور پورا چین کیس سے ڈرتا ہے‘ کیوں؟ یہ وجہ بھی اپنی جگہ بہت دل چسپ ہے اور دوسری وجہ سیاحت دنیا کی دوسری بڑی انڈسٹری ہے‘ چین اب اس انڈسٹری سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے لہٰذا اس نے دنیا کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔
چین نے عوام کی گریڈنگ کر رکھی ہے‘ آپ اگر اچھے انسان ہیں‘ قانون کی پابندی کرتے ہیں‘ وقت پر بل جمع کراتے ہیں‘ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور آپ کے بینک اکائونٹس اور ٹیکس ڈاکومنٹس ٹھیک ہیں تو آپ کے گریڈ ہائی ہوں گے چناں چہ حکومت آپ کو بے شمار سہولتیں دے گی لیکن اگر آپ کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا یا آپ قانون توڑنے کی غلطی کر بیٹھے یا آپ نے بینک سے فراڈ کر دیا تو آپ کے گریڈ کم ہو جائیں گے اور اس کے بعد آپ کی شہری سہولتیں کم ہو جائیں گی مثلاً آپ ہوائی سفر نہیں کر سکیں گے‘ پراپرٹی نہیں خرید سکیں گے‘ فاسٹ ٹرین میں نہیں بیٹھ سکیں گے‘ فائیو سٹار ہوٹلوں میں نہیں رہ سکیں گے‘ گاڑی نہیں خرید سکیں گے اور کریڈٹ کارڈ نہیں بنوا سکیں گے‘ چین میں 90 فیصد خریداری علی (Alipay) اور وی چیٹ سے ہوتی ہے‘ یہ پے منٹ ایپس ہیں‘ چین میں اگر کسی شخص کی گریڈنگ کم ہو جائے تو حکومت اس کا علی پے اور وی چیٹ اکائونٹ بند کر دیتی ہے جس کے بعد وہ شخص زمین کا رہتا ہے اور نہ آسمان کا۔ (جاری ہے)
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
یورپ میں شدید گرمی کے باوجود لوگ گھروں میں اے سی کیوں نہیں لگا سکتے؟
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
سونے کی قیمت عالمی دباؤ کا شکار، ایک دہائی کی بدترین سہ ماہی کا خدشہ
-
بلوچستان میں راستہ بھٹکنے والے کراچی کے تاجر کا ساتھ کب کیا ہوا؟ تفصیل سامنے آگئی
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
پی ڈی ایم اے کا آندھی، بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری
-
محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کر دی
-
فنانس ایکٹ 2026 کا نفاذ: کون سی گاڑیاں سستی ہوں گی اور کون سی مہنگی؟
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت گر گئی
-
فیفا ورلڈکپ: ہیری کین پر کالا جادو کرنے والے کی ورلڈکپ سے متعلق حیران کن پیشگوئی
-
جنوبی ایشیا کے مقروض ترین ممالک کی فہرست جاری، پاکستان کا کون سا نمبر ہے؟
-
پاکستان میں سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر ساتھی سمیت گرفتار
-
عالمی منڈی سے خوشخبری، خام تیل مزید سستا، پاکستان میں بھی پیٹرول سستا ہونے کی امید





















































