اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے، محض بیانات کافی نہیں ہوں گے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو خود آگے بڑھ کر اپوزیشن قیادت سے رابطہ کرنا چاہیے اور مثبت پیش رفت کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک حکومت کی جانب سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جسے خلوصِ نیت کا مظہر قرار دیا جا سکے۔بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعظم ملک کے سربراہِ حکومت ہیں تو پھر عمران خان سے ملاقات کے راستے کیوں نہیں کھولے جا سکتے؟ انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ یہی جواب دیا جاتا ہے کہ مشاورت کے بعد آگاہ کیا جائے گا، جبکہ خیبرپختونخوا کے بجٹ سمیت اہم معاملات پر عمران خان سے ملاقات ضروری سمجھی جاتی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ جس طرح ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اسی طرز پر پاکستان میں بھی جمہوریت، آئین کی بالادستی، معاشی استحکام اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جانا چاہیے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے جو بھی فریق مثبت کردار ادا کرے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی سے خطاب میں پی ٹی آئی کے جنید اکبر خان کا کہنا تھا کہ سعد رفیق کہتے تھے ہم بھگت رہے ہیں، تم بھگتو گے،کاش سعد رفیق کی بات ہمیں سمجھ آجاتی، ہم بھگت رہے ہیں لیکن آپ بھی بھگتیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے آئین ،قانون، اداروں کو بے توقیر کیا، امیر مقام دو ما ہ گلگت بلتستان میں رہے لیکن مجھے 20منٹ میں نکالا گیا۔



















































