بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

آم دنیا میں پاکستان کی پہچان اور موسم گرما کا مقبول ترین پھل بن گیا

datetime 17  جون‬‮  2026 |

مکو آ نہ (این این آئی)آم دنیا میں پاکستان کی پہچان اور موسم گرما کا مقبول ترین پھل ہے اور گذشتہ چند سالوں سے آم کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

آم کو مخصوص خوشبو، لذت، ذائقہ، غذائی اور طبی خصوصیات کے اعتبار سے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ کسی بھی پھل کی بہتر قیمت اور اچھی کوالٹی حاصل کرنے کیلئے باغبانوں کو پھل کی پختگی کے امر کو جانچنے کے علاوہ اس کی بروقت برداشت، درجہ بندی، پیکنگ و سنبھال بارے معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔با غبان شبانہ روز کی محنت کے بعد آم کا پھل حاصل کرتے ہیں اور قدرت بھی اپنی تمام تر خوبیوں کو اس میں شامل کرتی ہے لیکن جب انسانی ہا تھوں کا لمس اس کو ملتا ہے تو یہ اپنی رعنائیاں کھونا شروع کر دیتا ہے۔ باغبان آم کے پھل کو درخت سے الگ کرنے کے مرحلہ کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کریں کیونکہ صحیح فیصلہ کرنے پر ہی آم کے پھل کی کوالٹی کا انحصار ہوتا ہے۔

جب پھل میں مٹھاس یا شکر کی مقدار 10 سے 12 ڈگری برکس ہو جائے تو آم کا پھل برداشت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس مرحلہ پر آم کو درخت سے توڑلیا جائے تو پکنے پر آم کی تمام خصوصیات بہتر طور پر نمایاں ہوتی ہیں۔ اگر آم کو برآمد کرنا مقصود ہو تو پھر شکر کی مقدار 8 سے 10 ڈگری برکس ہونی چاہیے کیونکہ اس سے آم کے پھل کی بعداز برداشت زندگی بڑھ جاتی ہے۔ پھل کی برداشت کامطلب اس کو صحیح طور پر درخت سے اتارنا اور اکٹھا کرنا ہے۔ اس کیلئے باغبانوں کو ان سفارشات پر عمل کرنا چاہئے تاکہ پھل کا نقصان کم سے کم ہو۔برداشت کے وقت پھل تک بر اہ راست رسا ئی حا صل کی جائے جبکہ پھل کو ڈنڈی سمیت کاٹ کر تھیلے میں ڈالا جائے اور پھل کوچوٹ لگنے سے ہر حالت میں بچایا جائے۔اگر پھل کو ڈنڈی کے بغیر کاٹا جائیگا تو ایک سیال مادہ (دھودک)بہہ کر پھل کی سطح پر جم جا ئیگا جودرج ذیل تین قسم کے مسائل پیداکرتاہے۔پھل کی سطح پر گردوغبار جم جاتا ہے جس سے پھل انتہائی گندہ دکھائی دیتا ہے۔اس سیا ل مادہ میں نشاستہ دار غذائی عناصر موجود ہوتے ہیں جن پر پھپھوندی لگ جاتی ہے اور بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔پھل خراب ہونا شروع ہوجاتاہے جب یہ پھل مارکیٹ پہنچتا ہے تو انتہائی خراب صورت اختیار کر چکاہوتاہے۔یہ سیا ل مادہ چھلکے کو بھی متاثر کرتا ہے اور پھل کی متاثرہ سطح رنگ دار یا دھبے دار ہوجاتی ہے جس سے پھل کا معیار گر جاتا ہے۔اس مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ بوقت برداشت ڈنڈی 5 ملی میٹر تک پھل کے ساتھ رہنے دی جائے جس کو بعد ازاں کا ٹ کر علیحدہ کر دیا جائے۔

آم کی برداشت کے وقت موسم انتہائی گرم ہوتا ہے جس کا آم کے پھل پر کافی برا اثرپڑتا ہے۔ اس لئے باغبانوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ پھل کی برداشت صبح کے وقت کریں کیونکہ دن کی گرمی کے اثر کو رات کی ٹھنڈک کافی حد تک کم کر چکی ہوتی ہے۔ ہاتھوں یا قینچی کی مدد سے آم کو اس کی شاخ سمیت درخت سے الگ کیا جائے۔ پھل کو کسی بھی حالت میں زمین پرگرنے سے بچایا جائے۔آم کی سطح پر لگی ہوئی چوٹ آم کے پھل کی کوالٹی کو خراب کر دیتی ہے جس کا پتہ پھل کے پکنے پر چلتا ہے اورپھل ضائع ہو چکا ہوتا ہے۔ توڑے گئے پھل کو باغ کے اندر سایہ دار جگہ پر رکھا جائے کیونکہ سورج کی گرمی سے آموں کی بعد از برداشت زندگی کو نقصان پہنچتا ہے۔ پھل کو آہستگی کے ساتھ کسی ملائم ٹوکری یا تھیلے میں رکھا جائے اور جب 15 یا 20 کلوگرام آم جمع ہوجائیں تو ٹوکری خالی کر دی جائے ورنہ نیچے والے آموں پر بوجھ بڑھ جائے گا۔ آم بھی ایک جاندار شے ہے جو کہ زیادہ گرمی کی وجہ سے بہت زیادہ بے سکونی محسوس کرتا ہے۔ اس کی اس حالت کو سکون میں بدلنے کیلئے اس کو فوری طورپر ٹھنڈا کرنا ضروری ہے۔عام طور پر آم کے پھل کو سرد پانی میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے اوراس کا آسان طریقہ برف سے ٹھنڈے کئے ہوئے پانی کا استعمال ہے۔اس عمل کے دوران اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ آم کے پھل کو برف چھونے نہ پائے ورنہ اس کی اندرونی جلد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر آم کا پھل برآمد کرنا مقصود ہو تواس کو سرد خانوں میں ٹھنڈا کرنا نہا یت ضروری عمل ہے۔

سبزآم یعنی کچے پھل کو ہم تقریباََ تین یا چار ہفتے سرد خانوں میں رکھ سکتے ہیں۔ گرم پا نی کا طریقہ صرف ان آموں کیلئے استعمال کرنا چاہیے جو پختگی کے قریب نہ ہوں کیونکہ پختگی کے نزدیک پہنچے ہوئے آموں کو اگر گرم پانی میں ڈبویا جائے تو پکنے کے بعد ان کا معیار خراب ہوسکتا ہے جس میں جلد کی رنگت اور ذائقہ میں غیر مناسب تبدیلی شامل ہیں۔ آم کے پھل کی درجہ بندی بلحاظ وزن اور جسامت کی جاتی ہے مختلف سائز اور کوالٹی کے پھل الگ کردئیے جاتے ہیں۔ ہر آم کی شکل اور سائز دوسر ے سے مختلف ہوتا ہے اس لئے یہ بہتر خیال کیا جاتا ہے کہ ہرآم کی درجہ بندی بلحاظ وزن کا پیمانہ اپنایا جائے۔رنگ کے لحاظ سے کی جانے والی درجہ بندی سب سے موزوں خیال کی جاتی ہے کیونکہ ایک رنگ کے پھل ایک وقت پر پک کر تیار ہو جاتے ہیں۔ صحیح اور مناسب پیکنگ آم کی مارکیٹنگ کے لیے ضروری ہے۔ پیکنگ کے لیے گتے کے مضبوط اورہوا دار ڈبے استعمال کرنے چاہئیں۔ پیک کا سائز کل وزن اور کل تعداد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے یعنی 4.5 کلو گرام والے ڈبے میں 8 یا 10 آم بھی قابل قبول ہوتے ہیں اس کا فیصلہ درآمد کنندہ کی رائے سے کیا جاتا ہے۔ پیک ہاؤس میں پھل کو دھونے کے بعد 2 درجوں میں تقسیم کیا جائے۔ پہلا درجہ ایسے پھلوں پر مشتمل ہوجن کو تازہ پھل کے طور پر براہ راست استعمال کیا جائے جبکہ دوسرے درجے میں وہ پھل شامل ہوں جن سے مختلف اقسام کی غذائی مصنوعات تیار کی جاتی ہوں مثلاً مربہ جات، جیم اور سکوائش وغیرہ۔ اندرون ملک مارکیٹنگ کرتے وقت آم کو لکڑی کی پیٹیوں میں اخبا ر کی مدد سے پیک کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…