اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پنجاب کے ضلع چکوال میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک کمسن بچی جاں بحق جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوگئے۔
واقعے نے مقامی آبادی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی شہریت رکھنے والے عدیل احمد اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، بیٹے عفان اور 9 سالہ بیٹی ہانیہ کے ہمراہ حال ہی میں پاکستان آئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ عدیل احمد اور ان کی اہلیہ حج کی ادائیگی کے بعد اسی روز وطن واپس پہنچے تھے اور اہل خانہ کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق رات گئے جب یہ خاندان عزیز و اقارب سے ملاقات کے لیے روانہ ہوا تو راستے میں دو موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے انہیں روک لیا اور ڈاکٹر سدرہ سے قیمتی زیورات چھین کر فرار ہونے لگے۔ اسی دوران قریب موجود سی سی ڈی اہلکاروں نے صورتحال دیکھ کر مبینہ طور پر کارروائی شروع کی۔اطلاعات ہیں کہ ملزمان اور اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد ڈاکو موقع سے فرار ہوگئے۔ اسی دوران عدیل احمد نے اہل خانہ کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے گاڑی آگے بڑھائی، تاہم مبینہ طور پر اہلکاروں نے گاڑی کو مشتبہ سمجھتے ہوئے اس پر فائرنگ کر دی۔واقعے کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر ایک گھر کے گیٹ سے جا ٹکرائی۔
زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 9 سالہ ہانیہ کو مردہ قرار دے دیا گیا، جبکہ عدیل احمد اور ان کے بیٹے عفان کو تشویشناک حالت میں راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں عدیل احمد کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، تاہم ان کا بیٹا اب بھی زیر علاج ہے۔ ڈاکٹر سدرہ خان اس واقعے میں محفوظ رہیں۔حادثے کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکام نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے مکمل تحقیقات اور انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سلسلے میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔



















































