اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں ایک غیر معمولی واقعہ سیاسی اور انتظامی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا،
جہاں اطلاعات کے مطابق ایک تنازعے کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کامران حامد کا تبادلہ کر دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملہ اس وقت شروع ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی شاہد حسین بھٹی اپنے بیٹے حیدر بھٹی اور چند ساتھیوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران ڈی پی او دفتر میں موجود نہیں تھے، جبکہ حیدر بھٹی مبینہ طور پر ان کے ذاتی کمرے میں گئے اور وہاں موجود واش روم استعمال کیا۔رپورٹس کے مطابق جب ڈی پی او کامران حامد دفتر واپس آئے تو انہیں اس صورتحال کا علم ہوا، جس پر انہوں نے ناراضی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور کشیدگی پیدا ہوگئی۔ذرائع کے مطابق بعد ازاں یہ معاملہ سیاسی سطح تک پہنچ گیا اور بااثر حلقوں کی مداخلت کے بعد ڈی پی او کامران حامد کا تبادلہ کرکے انہیں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں تعینات کر دیا گیا۔
واش روم کا استعمال/ Get Lost/ ڈی پی او تبدیل
حافظ آباد میں پیش آیا انوکھا واقعہ، چند روز قبل لیگی رکن پنجاب اسمبلی شاہد حسین بھٹی اپنے بیٹے حیدر بھٹی اور دیگر لوگوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس حافظ آباد میں موجود تھے، ڈی پی او کامران حامد اس وقت آفس نہیں تھے اس دوران ایم پی اے کے بیٹے… pic.twitter.com/qyTZqHrPBz
— Muhammad Umair (@MohUmair87) June 13, 2026
مزید اطلاعات کے مطابق تبادلے کے بعد حیدر بھٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی، جسے اس واقعے سے جوڑا جا رہا ہے۔ اسی دوران حافظ آباد کے سابق رکنِ اسمبلی مامون جعفر تارڑ کی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، جس میں اس تنازعے اور تبادلے کے پس منظر پر گفتگو سنائی دیتی ہے۔تاہم اس معاملے پر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں واقعے پر مختلف آراء کا اظہار جاری ہے۔



















































