اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سعودی وزارت الحج و عمرہ کی جانب سے حج 2027 کے انتظامات میں مشاعر کے لیے ڈی کیٹگری ختم کرنے کے فیصلے کے بعد
پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ مذہبی امور گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری حج اسکیم کے تحت 42 روزہ لانگ اور 25 روزہ شارٹ حج پروگرام ڈی کیٹگری میں چلاتی رہی ہے۔ کم لاگت کی وجہ سے یہی کیٹگری عوام میں زیادہ مقبول سمجھی جاتی تھی، کیونکہ تقریباً 11 سے 12 لاکھ روپے کے حج پیکیج اسی زمرے میں ممکن تھا۔سعودی حکام کی جانب سے نئی پالیسی اور ٹائم لائن جاری ہونے کے بعد اب کم لاگت والے حج پیکیج کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ڈی کیٹگری کے خاتمے کے بعد سی کیٹگری میں حج اخراجات 15 لاکھ روپے سے کم رہنے کا امکان نہیں، جبکہ بی اور اے کیٹگری کے پیکیجز 20 لاکھ روپے سے زائد تک پہنچ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ مذہبی امور ہر سال حج آپریشن کے دوران مکہ، مدینہ اور جدہ میں موجود حج مشن کے وسائل کے ساتھ تقریباً 1600 معاونین کی خدمات بھی استعمال کرتی رہی ہے، جن کا بڑا حصہ ڈی کیٹگری کے انتظامات سے منسلک تھا۔
نئی پالیسی کے بعد وزارت کو اپنے آئندہ لائحہ عمل کے تعین میں مشکلات کا سامنا ہے۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی حج مشن نے سعودی حکام سے درخواست کی ہے کہ ڈی کیٹگری کو برقرار رکھنے پر غور کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے افراد کے لیے حج کی سہولت بدستور دستیاب رہ سکے۔



















































