واشنگٹن (این این آئی)امریکی وزیر دفاع و جنگ پیٹ ہیگستھ نے پارلیمان کے سامنے ایران جنگ سے متعلق چھبتے ہوئے سوالات کے جوابات دیئے اور فوج کی کارکردگی بھی پیش کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش آئے جس کے دوران خاتون رکن اسمبلی سارا جیکبز سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جس وقت امریکی کانگریس کی خاتون رکن صدر ٹرمپ کے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کی نامناسب اور مضحکہ خیز پوسٹوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں ان کے عقب میں ایک معاون صدر ٹرمپ کے کٹ آٹس اٹھا رکھے تھے۔ان پوسٹرز میں اے آئی سے تیار کردہ وہ تصویر بھی شامل تھی جسے بعد میں صدر ٹرمپ کے اکاونٹس ست حذف کر دیا تھا لیکن تب تک وہ کافی وائرل ہوچکی تھی اور اس پر مذہب کا مذاق اڑانے اور دل آزاری کا الزام لگا تھا۔صدر ٹرمپ نے اس پوسٹ میں اے آئی کی مدد سے خود کو مسیحا نما انداز میں دکھایا گیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے کہا تھا ان کا روپ مردے میں جان ڈالنے حضرت عیسی علیہ السلام نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر کا ہے۔رکن کانگریس سارا جیکبز نے وزیر دفاع اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صدر ذہنی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری نبھا سکیں؟
اس پر وزیر دفاع و جنگ پیٹ ہیگستھ نے جوابی سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہی سوال چار سال تک جو بائیڈن کے بارے میں بھی پوچھا تھا؟ آپ نے ایسا نہیں کیا۔پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ آپ یہ سوال اب پوچھ رہی ہیں جبکہ آپ اور آپ کے دیگر ڈیموکریٹس ساتھی ایک ایسے صدر (جوبائیڈن)کا دفاع کرتے رہے جنھیں بولنے تک میں دشواری ہوتی تھی۔اس پر رکن کانگریس سارا جیکبز نے ترکی بی ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن سنہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار نہیں تھے۔



















































