اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وزیراعظم اپنا گھر پروگرام اور “اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم کے تحت کم آمدنی والے پاکستانیوں کو رعایتی شرح پر ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں،
تاکہ وہ اپنا گھر بنانے یا خریدنے کا خواب پورا کر سکیں۔ان منصوبوں کے ذریعے گھر، فلیٹ یا پلاٹ پر تعمیرات کے لیے 10 ملین روپے تک قرض حاصل کیا جا سکتا ہے، جسے آسان اقساط میں واپس کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد متوسط اور محنت کش طبقے پر مالی دباؤ کم کرنا ہے۔یہ اسکیم شہری علاقوں میں مکان، اپارٹمنٹ یا فلیٹ خریدنے کے ساتھ ساتھ ذاتی ملکیتی زمین پر گھر تعمیر کرنے والوں کے لیے بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔حکومت کے مقررہ معیار کے مطابق 10 مرلہ تک گھروں یا 1500 مربع فٹ تک فلیٹس کے لیے قرض دستیاب ہے۔ زیادہ سے زیادہ قرض کی حد ایک کروڑ روپے رکھی گئی ہے، جبکہ صارف کے لیے شرح منافع 5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔قرض کی واپسی کی مدت 20 سال تک ہو سکتی ہے، جبکہ ابتدائی 10 برسوں کے لیے حکومت مارک اپ سبسڈی فراہم کرے گی۔ صارفین صرف مقررہ 5 فیصد شرح ادا کریں گے، جبکہ باقی شرح بینکنگ فارمولے کے مطابق شمار ہوگی۔اس اسکیم کی ایک اہم سہولت یہ بھی ہے کہ جلد قرض واپس کرنے پر کوئی اضافی فیس یا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کے مختلف بینک اس پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس فراہم کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بینک الفلاح کی اسکیم میں 30 لاکھ روپے قرض کے لیے مختلف ادائیگی پلان موجود ہیں۔اگر قرض 10 سال میں واپس کیا جائے تو ماہانہ قسط تقریباً 19 ہزار 799 روپے بنتی ہے۔ 15 سالہ مدت کے لیے قسط 23 ہزار 724 روپے ماہانہ مقرر ہے، جبکہ 20 سالہ پلان اختیار کرنے والوں کو تقریباً 31 ہزار 820 روپے ماہانہ ادا کرنا ہوں گے۔یہ نظام شہریوں کو اپنی مالی استطاعت کے مطابق قسطوں کا انتخاب کرنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ حکومتی سبسڈی کے باعث قرضوں کی ادائیگی نسبتاً آسان بن جاتی ہے۔



















































