منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کا ایک اور بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

datetime 25  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ سرکاری اداروں کی تمام رقوم کمرشل بینکوں کے بجائے ایک مرکزی نظام، یعنی سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں منتقل کی جائیں تاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری اداروں کی ایک ہزار ارب روپے سے زائد رقم تاحال اس مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کی گئی۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ حکومت کو قرضوں پر انحصار کم کرتے ہوئے پہلے سے موجود سرکاری وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔اطلاعات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے آئی ایم ایف کو تحریری یقین دہانی کروائی ہے کہ سرکاری اداروں کے فنڈز کو مرحلہ وار سنگل ٹریژری اکاؤنٹ کے تحت لایا جائے گا تاکہ شفافیت اور کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت متعدد سرکاری ادارے اپنی رقوم کمرشل بینکوں میں رکھ کر منافع حاصل کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت انہی بینکوں سے زیادہ شرح سود پر قرض لے رہی ہے، جس سے مالی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماضی میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس معاملے پر سخت نگرانی نہیں کی گئی، تاہم اب آئی ایم ایف اس پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

مزید برآں، آئی ایم ایف نے ہدایت دی ہے کہ مزید 70 سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس کو بھی سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں شامل کیا جائے، جن میں تقریباً 290 ارب روپے موجود ہیں۔ اس سے قبل 242 اکاؤنٹس کو اس نظام کا حصہ بنایا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں قریب 200 ارب روپے قومی خزانے میں منتقل ہوئے۔ذرائع کے مطابق پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کے سیکشن 40 سی کے تحت تمام سرکاری آمدن کو وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرانا ضروری ہے، لیکن اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے سے مالیاتی نظم متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام سرکاری رقوم کو ایک ہی نظام کے تحت لانے سے کیش مینجمنٹ بہتر ہوگی اور حکومت کو غیر ضروری قرضوں سے بھی بچایا جا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…