اسلام آباد (نیوز ڈ یسک )پاکستان نے سوڈان کے ساتھ اسلحہ اور جنگی طیاروں کی فراہمی سے متعلق تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے مجوزہ معاہدے کو فی الحال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پیش رفت کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے اس معاہدے پر تحفظات اور مالی معاونت سے انکار بتایا جا رہا ہے، جیسا کہ سیکیورٹی اور سفارتی ذرائع نے بین الاقوامی خبر ایجنسی کو آگاہ کیا۔سوڈان میں گزشتہ چند برسوں سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری لڑائی ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے، جس نے ملک کو عدم استحکام کا شکار بنا دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف داخلی حالات کو خراب کیا بلکہ اسے عالمی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کا مرکز بھی بنا دیا ہے، جبکہ سونے کی پیداوار کے حوالے سے اس کی اہمیت بھی برقرار ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ دفاعی معاہدہ جنوری میں حتمی مراحل میں داخل ہو چکا تھا اور اس میں سعودی عرب کی ثالثی شامل تھی، تاہم اس وقت مالی معاونت کے حوالے سے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔
یہ معاہدہ پاکستان کے ان دفاعی منصوبوں کا حصہ تھا جن پر گزشتہ عرصے سے کام جاری ہے، خاص طور پر اس وقت جب خطے میں کشیدگی کے باعث دفاعی صلاحیتوں پر عالمی توجہ بڑھی۔سعودی عرب، جو پاکستان کا قریبی اتحادی اور مالی معاون سمجھا جاتا ہے، نے عندیہ دیا کہ وہ اس معاہدے کی مالی ذمہ داری نہیں اٹھائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسی بنیاد پر پاکستان نے بھی اس معاہدے پر پیش رفت روک دی ہے۔ تاہم اس حوالے سے سعودی حکام، سوڈانی فوج یا پاکستانی اداروں کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔مزید یہ کہ بعض مغربی ممالک نے بھی سعودی عرب کو افریقی تنازعات میں براہ راست کردار ادا کرنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
خطے میں مختلف ممالک کی جانب سے مختلف فریقوں کی حمایت کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مارچ میں ریاض میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے بعد اس معاہدے کی مالی معاونت سے دستبرداری کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی تناظر میں لیبیا کے ساتھ ایک ممکنہ دفاعی معاہدہ بھی غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے، کیونکہ سعودی عرب اپنی علاقائی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہا ہے۔



















































