جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

روپے کی قدر میں کمی ،تاجروں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 27  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ صرف یورپ کو بھیجی جانے والی برآمدات میں ماہانہ پانچ سو ملین ڈالر اورسہ ماہی بنیادوں پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی ہو رہی ہے جبکہ کل برآمدات میں کمی اس سے کہیں زیادہ ہے جس پر توجہ دی جائے۔یورپی برآمدات میں سالانہ چھ ارب ڈالر کی کمی ناقابل برداشت ہے۔عالمی تجارتی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی کر کے برآمدات بڑھانے کا زمانہ گزر گیا ہے اب اسکے لئے مینوفیکچرنگ کے شعبہ کو جدید ساز و سامان ، کارکردگی و استعداد بڑھانے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بدلتے رجحانات پر توجہ دینی ہو گی جبکہ حکومت کو توانائی بحران حل اور ریفنڈ کی فوری ادائیگی کرنا ہو گی۔ روپے کی قدر میں کمی اس وقت فائدے مند ہو سکتی ہے جب دیگر ممالک ایسا نہ کریں جو پاکستان کے اختیار میں نہیں۔برآمدکنندگان کے مطالبہ کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے روپے کی قدر میں کمی نہ کر کے دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ اس سے قرضہ اور تجارتی خسارہ بڑھ جاتا۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سالہا سال سے مقامی کرنسی سالانہ آٹھ سے دس فیصد قدر کھو رہی تھی جس پر اب قابو پایا جا رہا ہے اور اس میں مصنوعی کمی ملکی مفاد کے خلاف ہو گی۔کرنسی کی قدر کا تعین اقتصادی حالت کے مطابق ہونا چائیے نہ کہ برآمدات پر۔ برآمدکنندگان کے فائدے کیلئے بیس کروڑ افراد کے مفاد کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ روپے کی قدر کم کرنے سے درآمدات جو برآمدات سے دگنی ہیں کی قیمت 4ارب ڈالربڑھنے کے علاوہ قرضہ اور اسکے سود میں بھی اضافہ ہو گا جبکہ افراط زر بڑھ جائے گا ۔اگربرآمدکنندگان کی کوششوںسے ڈالرڈیڑھ روپے تک مہنگا کر دیا گیا تو غیر ملکی قرضوں میں ایک کھرب روپے تک کا اضافہ ہو جائے گا اور اسکا سود بھی اسی تناسب سے بڑھے گا جبکہ برآمدات میں اضافہ کی کوئی گارنٹی نہیں۔ برآمدی شعبہ کی زبوں حالی کو بہتر بنانے کیلئے نہ ملک کو مزید نقصانات پہنچایا جا سکتا ہے نہ بیس کروڑ عوام کے مفادات کی قربانی نہیں دی جا سکتی۔ چین کی جانب سے کرنسی کی قدر میں دو فیصد کمی کے بعد درجنوں دیگر ممالک نے بھی اپنی کرنسی کی قدر کم کی تاہم انکی برآمدات میں کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔اس لئے ہمیں ضرورت ہے کہ ویلیوانڈیشن ،برانڈنگ،کوالٹی اور مارکیٹنگ کے شعبوں کو مضبوط بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…