کراچی (این این آئی)عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے،
جس کے نتیجے میں زرد دھات کی قیمت سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی اور شرح سود میں اضافے کی توقعات کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں سرمایہ کاری کا رجحان کم ہو رہا ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونا 3 ہزار 985 اعشاریہ 89 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز برائے اگست 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 4 ہزار 1 اعشاریہ 60 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔عالمی منڈی میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ چاندی کی قیمت 0.2 فیصد کمی کے بعد 57 اعشاریہ 33 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پلاٹینم 0.2 فیصد کمی کے ساتھ ایک ہزار 575 اعشاریہ 85 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ دوسری جانب پیلیڈیم کی قیمت میں 0.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ ایک ہزار 170 اعشاریہ 25 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمت پہلی مرتبہ نومبر 2025 کے بعد 4 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح سے نیچے آئی ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی قدر ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا نسبتا مہنگا ہو جاتا ہے اور طلب میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات نے بھی سونے کی قیمتوں پر دبائو بڑھا دیا ہے۔مالیاتی ماہرین کے مطابق سرمایہ کار رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں، جس کے باعث محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے کی طلب متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی اشاریوں اور امریکی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلیاں آئندہ دنوں میں بھی سونے کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی۔



















































