جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں موبائل فونز پر ڈیوٹیز میں کمی، قیمتیں کتنی کم ہو سکتی ہیں؟

datetime 25  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کے لیے اہم ریلیف اقدامات متعارف کرا دیے ہیں۔

نئے مالیاتی بل میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے ساتھ ساتھ پی ٹی اے ٹیکس کو قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت بھی شامل کر دی گئی ہے۔قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے فنانس بل کے تحت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں امپورٹڈ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔نئی ترامیم کے مطابق صارفین کو اب پی ٹی اے ٹیکس ایک ہی بار ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ یہ رقم آسان اقساط میں جمع کروائی جا سکے گی۔ اس اقدام سے موبائل فون خریداروں پر مالی بوجھ میں کمی آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔یکم جولائی 2026 سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں ان فیصلوں کے باعث درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جس سے صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں کا مسئلہ اٹھایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ موبائل فون کو تعیشات کی بجائے ایک بنیادی ضرورت تصور کیا جانا چاہیے اور اس پر ٹیکسوں میں کمی کی جانی چاہیے۔ابتدائی طور پر اگرچہ کمیٹی نے ایف بی آر کو سفارشات بھیجیں، تاہم بجٹ میں یہ تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں اس معاملے کو دوبارہ اٹھایا گیا، جس کے نتیجے میں ایف بی آر نے نظرثانی کرتے ہوئے ٹیکسوں میں کمی سے متعلق تجاویز منظور کیں۔منظور شدہ بجٹ کے مطابق 200 سے 300 ڈالر مالیت کے درمیانے درجے کے موبائل فونز پر بھی ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے، جس سے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔فنانس بل میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ پی ٹی اے ٹیکس کی اقساط اسی مالی سال کے اندر مکمل کرنا ہوں گی، جبکہ اس حوالے سے ایف بی آر اور پی ٹی اے مشترکہ طور پر طریقہ کار وضع کریں گے۔

سید علی قاسم گیلانی نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ مزید ٹیکس کمی کے خواہاں تھے، تاہم موجودہ حالات میں یہ اقدامات بھی صارفین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوں گے۔فی الوقت پاکستان میں موبائل فونز پر مختلف قیمتی کیٹیگریز کے مطابق الگ الگ ٹیکس نافذ ہیں۔ 30 ڈالر تک کے فونز پر 25 فیصد، 31 سے 100 ڈالر تک کے فونز پر 36 فیصد اور 101 سے 200 ڈالر مالیت کے فونز پر 40 فیصد تک ٹیکس لاگو ہے۔اسی طرح 201 سے 350 ڈالر تک کے فونز پر 38 فیصد، 351 سے 500 ڈالر تک کے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد جبکہ 500 ڈالر سے زائد قیمت والے مہنگے فونز پر 41 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جو بعض صورتوں میں ایک لاکھ 41 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔موبائل فون مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے بعد بعض درآمدی فونز کی قیمتوں میں تقریباً 15 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق پی ٹی اے ٹیکس کی قسطوں میں ادائیگی کی سہولت صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی، تاہم پائیدار بہتری کے لیے ضروری ہے کہ موبائل فونز پر ٹیکسوں کی شرح کو مزید کم کیا جائے تاکہ صارفین کی قوتِ خرید برقرار رہے اور موبائل مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…