کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان میںسابق دور میں خریدی گئی8لاکھ گندم کی بوریاں خراب ہونے کے انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرخوارک نورمحمد دمڑ نے واضح کیا کہ مذکورہ گندم کی خریداری موجودہ حکومت کے دور میں نہیں بلکہ ماضی میں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور میں کم معیار کی گندم خریدی گئی، جو وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو گئی اور اس کی لو کوالٹی سامنے آئی۔انہوں نے بتایا کہ خراب گندم کی فروخت سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ اور ہدایات کی روشنی میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم آئی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ گندم بڑی حد تک خراب ہو چکی ہے اور اس کی کوالٹی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث اسے مزید ذخیرہ کرنا ممکن نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں سی ایم آئی ٹی نے گندم فروخت کرنے کی سفارش کی۔نور محمد دمڑ نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد محکمہ خوراک نے خراب گندم فروخت کی اور حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ خوراک کے پاس خراب گندم کی کوئی بوریاں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے اور تمام فیصلے متعلقہ رپورٹس اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاملے میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں ہوئی ،اگر ضرورت پڑی تو مزید تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔



















































