منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد کو ریلیف ملنے کا امکان

datetime 17  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے ریلیف دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔مشیر خزانہ خرم شہزاد نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ تنخواہ داروں اور دستاویزی معیشت میں شامل کاروباروں کے لیے ہدفی اقدامات تیار کیے جا رہے ہیں،حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی اور ٹیکس ریٹس کے بہتر انتظام پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی 4 فیصد تک بڑھ سکتی ہے جبکہ اگلے سال یہ شرح تقریباً 5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے،ملک کو بیرونی اکاؤنٹس میں مضبوطی دینے کے لیے ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

خرم شہزاد نے آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ اقتصادی جائزے کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس بار حکومت محتاط اور پائیدار اقتصادی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ بار بار بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے بچا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 سرکاری ادارے جو مالی بوجھ بڑھا رہے ہیں، نجکاری کے عمل میں آئیں گے۔انہوں نے افراط زر میں کمی اور عوام پر دباؤ کے حوالے سے کہا کہ مہنگائی 25–30 فیصد سے تقریباً 5 فیصد پر آ گئی ہے، اور حکومت کا مقصد شہریوں کی کمائی بڑھانا ہے، جس سے برآمدات اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔خرم شہزاد نے ٹیکس وصولیوں میں کمزوریوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے وفاق نے گزشتہ سال 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیے، جس سے وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 11.3 فیصد رہا، جبکہ عالمی معیار تقریباً 18 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ٹیکس مجموعی طور پر کم ہیں اور 2028 تک اس کو تین گنا بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…